تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 81
مذہب کو تو تم تسلیم کرتے ہو اسے اس کی تعلیم کے مقابل پر رکھ کر دیکھ لو اگر اس میں اس سے اعلیٰ تعلیم موجود نہ ہو تو اسے ردّ کر دو ورنہ تم کو خود اپنے مسلّمات کے رو سے ماننا پڑے گا کہ یہ الٰہی کتاب ہے جس میں پہلی الٰہی کتب سے بہتر تعلیم موجود ہے۔نیز آسمانی نشانات کے بارہ میں بھی تم اس کتاب کے ماننے والوں سے مقابلہ کرکے دیکھ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ کِن کے ساتھ ہے؟ لیکن اگر سوچنے کی کوشش نہ کرو اوربلاوجہ انکار کرتے جائو تو اس میں کیا شبہ ہے کہ تم کو عذاب ملے گا اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جو لوگ اس اعلیٰ تعلیم کو مانیں گے انہیں اعلیٰ انعامات عطا ہوںگے جو متواتر انہیں دیئے جائیں گے تاکہ کوئی شخص ان انعامات کو اتفاقی حادثہ نہ کہہ سکے اور گو ہم نے ان انعامات کی طرف مختصر الفاظ میں اشارہ کیا ہے مگر اپنے وقت پر ان پیشگوئیوں کی عظمت ظاہر ہو کر رہے گی۔اور منکروں کے لئے اعتراض کا لیکن مومنوں کے لئے زیادتی ایمان کا موجب ہو گی۔او رمنکروں کا فائدہ نہ اُٹھانا ایک طبعی نتیجہ ہے کیونکہ بیمار آنکھ نور کو نہیں دیکھ سکتی۔پھر فرماتا ہے کہ آخر قرآن کریم کی صداقت کے سمجھنے میں مشکل ہی کیا ہے ؟یہ پہلا کلام نہیں اس سے پہلے خدا تعالیٰ کی طرف سے مردہ قوموں کی طرف ہدایت آتی رہی اور اس کے ذریعہ سے لوگ زندہ کئے جاتے رہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ یہ سلسلہ اب ختم ہو جائے پس اب بھی اسی سنت کے مطابق خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک حق آیا ہے اور آیندہ ایسا ہی ہوتا رہے گا پھر کیا مشکل ہے کہ جن اصول پر سابق صداقتوں کو پرکھا گیا تھا انہی پر قرآن کریم کی صداقت کو بھی پرکھ لیا جائے۔پھر فرماتا ہے کہ یہ لوگ کیوں نظامِ عالم کو نہیں دیکھتے کہ وہ ایک ارتقاء پر دلالت کرتا ہے جس میں الٰہی ہاتھ نظر آتا ہے پھر کیوں یہ اس ارتقاء کی آخری کڑی کو ماننے میں عذر کرتے ہیںحالانکہ ارتقاء کی آخری کڑی ہی مقصودِ اعلیٰ ہوتی ہے اسے چھوڑ دیا جائے تو سب نظام ہی نامکمل رہ جاتا ہے۔خلاصہ رکوع ۴ پھر اس نظام کی پہلی کڑی یعنی آدمؑ یعنی ملہمِ اوّل کا ذکر فرماتا ہے کہ آخر آدم کو تم مانتے ہو اس کی سچائی کا کیا ثبوت تمہارے پاس ہے جس طرح اس کی سچائی کو اس زمانہ کے لوگوں نے مانا۔اسی طرح محمد رسول اللہ کی صداقت کو پرکھا جا سکتا ہے اس کی ذات پر بھی اعتراض ہوئے اور معمولی لوگوں کی طرف سے نہیں بلکہ ملائکہ صفت انسانوں کی طرف سے اعتراض ہوئے۔مگر کیا اس سے اس کی سچائی میں فرق آیا؟ اللہ تعالیٰ نے اسی کی تائید کی اور پھر وہی ملائکہ صفت رہ سکے جنہوں نے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور اس کے آگے تذلل سے گر گئے باقی شیطان بن گئے۔خلاصہ رکوع ۵ تا۱۴ پھر فرمایا کہ یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اگر آدم ؑ پر کلام نازل ہوا تھا تو پھر کسی اور کلام کی کیا ضرورت ہے کیونکہ آدم ؑ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے متواتر اور حسبِ ضرورت کلام نازل ہوتا رہا ہے چنانچہ موجودہ زمانہ