تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 80
رکھ کر سورۂ بقرہ کو پڑھے گا اس کے مطالب کی وسعت اور جامعیت اور ترتیب کی خوبی اور تاثیر کا حیرت انگیز مطالعہ کرے گا۔سورۂ بقرہ کا خلاصہ او ر رکوعات کے مضمون کی ترتیب۔خلاصہ رکوع اوّل سورۂ بقرہ سورۂ فاتحہ کے بعد شروع ہوتی ہے۔سورۂ فاتحہ میں طلبِ ہدایت کی دعا سکھائی گئی تھی۔سورۂ بقرہ کی پہلی آیات میں اس دعا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ تم نے سورۃ فاتحہ میں جس ہدایت کو طلب کیا تھا اور جو گزشتہ زمانہ کے منعم علیہ گروہ کی ہدایت ہے وہ یہی کتاب یعنی قرآن شریف ہے اور اس کے نزول کے ذریعہ سے فطرت کی اس پکار کو اللہ تعالیٰ نے پورا کیا ہے جو سابق ہدایتو ںکے مٹ جانے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں سے پیدا ہو کر عرشِ الٰہی کو ہلا رہی تھی۔پھر فرماتا ہے کہ قرآن کریم نے نہ صرف دنیا کے لئے ایک ہدایت نامہ پیش کیا ہے بلکہ ایک ایسا مکمل ہدایت نامہ پیش کیا ہے جو سب مذاہب کی صداقتوں پر مشتمل ہے اور اسی وجہ سے اس کے دعویٰ کی بنیاد اس پر نہیں کہ دوسرے مذاہب پر اعتراض کرے اوران کے متعلق دلوں میں شکوک پیدا کرے اور یہ کتاب انسان کے اخلاق اور اعمال ہی کو درست نہیں کرتی بلکہ ایسے ایسے مقام پر پہنچاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اسے محبت ِخالص والا تعلق پیدا ہو جائے۔اس کتاب کو ماننے والوں کے لئے امور اعتقادیہ بھی بیان کئے جائیں گے جن پر ایمان لانا ان کے لئے ضروری ہو گا اور ان کے لئے عبادات کے طریق بھی بیان کئے جائیں گے جن پر عمل پیرا ہونا ان کے لئے ضروری ہو گا ان کے لئے حقوق العباد بھی بیان کئے جائیں گے اور ان پر چلنا بھی ان کے لئے ضروری ہو گا اور ان کے لئے سب صداقتوں اور سب سچے مذاہب کے بانیوں اور سب سچائیوں کا جو گزشتہ یا آیندہ زمانہ سے متعلق ہوں اس کتاب میں ذکر کیا جائے گا اور ان سب پر ایمان لانا ان کے لئے ضروری ہو گا او ریہ ایمان رسمی نہ ہو گا بلکہ اس کے لئے انہیں قربانیاں کرنی پڑیں گی اور لوگ مخالفت کریں گے لیکن وہ اپنی مخالفت میں ناکام رہیں گے۔خلاصہ رکوع ۲ اور کچھ لوگ منافقت سے تعلق پیدا کریں گے حالانکہ ان کے دلوں میں ایمان نہ ہو گا۔اور کچھ لوگ ایمان تو رکھتے ہوںگے مگر ان کے دل بزدلی سے ُپر ہوںگے پس بزدلی کی وجہ سے وہ اس کے دشمنوں سے ساز باز رکھیں گے ان دونوں گروہوں کی مخالفت اور منصوبہ بازی بھی اسلام کا کچھ نہ بگاڑ سکے گی۔خلاصہ رکوع ۳ پس جو بھی خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اسے اس مذہب میں داخل ہو کر خدائے واحد کی عبادت میں حصہ لینا چاہیے اور تقویٰ کا مقام حاصل کرنا چاہیے تا وہ قرآن کریم کی مدد سے خدا تعالیٰ تک رسائی پائے کہ پیدائش عالم کی غرض ہی یہ ہے اور اگر کوئی کہے کہ قرآن کریم کے اس دعویٰ کو ہم کیونکر تسلیم کریں توانہیں کہوکہ کسی نہ کسی