تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 82

سے پہلے موسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوا۔ان کی قوم میں نبی کے بعد نبی اصلاح کے لئے آئے اور چونکہ اس قوم نے بغاوت پر بغاوت کی۔اللہ تعالیٰ نے مرکز الہام بدلنے کا فیصلہ کر لیا اور بنو اسمعٰیل میں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری کلام کا مورد بنایا اور اب بنی اسرائیل حسد کی وجہ سے آپؐ کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اس مخالفت کا بھی وہی نتیجہ ہو گا جو پہلے انبیاء کی مخالفت کا نتیجہ ہوا تھا۔خلاصہ رکوع ۱۵ پھر فرمایا بنی اسرائیل کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان پر جو فضل ہوئے ہیں وہ حضرت ابراہیم ؑ کے وعدوں کی وجہ سے ہوئے ہیں اور ابراہیم ؑ سے جو وعدے ہوئے تھے وہ صرف بنو اسحاق کے بارہ میں نہ تھے بلکہ بنواسمعٰیل کے حق میں بھی تھے۔پس ضروری تھا کہ جب بنو اسحاق ذمہ واری کے ادا کرنے میں کوتاہی کریں تو بنواسمعٰیل کے وعدہ کو پورا کیا جائے اور اسی وعدہ کے پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمعٰیل کو وادی غیرذی زرع یعنی مکہ میں رکھا تھا آخر بنو اسمعٰیل کی قربانی کا بدلہ ملنے کا وقت آ گیا چنانچہ اب ان میں سے نبی مبعوث کیا گیا ہے جس کا یہ کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات لوگوں کو سنائے انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاکیزہ کرے۔خلاصہ رکوع ۱۶ بنو اسرائیل کو اس پر چڑنے کا حق نہیں۔انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے آباء ابراہیم اسحاق یعقوب علیہم السلام نے انہیں نصیحت کی تھی کہ اصل عزت کامل فرمانبرداری میں ہے۔پس انہیں فرمانبرداری کر کے خدا تعالیٰ کے انعامات کو حاصل کرنا چاہیے اور باغی بن کر اس کے عذاب کو نہ بھڑکانا چاہیے۔خلاصہ رکوع ۱۷،۱۸ پھر فرمایا کہ بنی اسرائیل محمدؐ رسول اللہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے گزشتہ نبیوں کا قبلہ ترک کر دیا ہے حالانکہ اوّل تو قبلہ مقصود بالذات شے نہیں صرف وحدت کے قیام کا ایک ذریعہ ہے دوسرے ابراہیم نے جو دعا بنو اسمعٰیل کے حق میں کی تھی اس میں کعبہ کے قبلہ اور مکہ کے حج کی جگہ مقرر ہونے کی خبر دی گئی تھی۔پس جب محمدؐ رسول اللہاس پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہیں تو ان کے لئے ضروری تھا کہ کعبہ کے قبلہ ہونے کا اعلان کریں ورنہ ان کی قوم ان برکات سے حصہ نہیں لے سکتی جو ابراہیمی دعا کے مطابق اس قبلہ سے وابستہ ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ کعبہ کی ظاہری و باطنی صفائی کریں ظاہری صفائی اس مقام کو فتح کر کے اور وہاں سے آلاتِ شرک کو دُور کر کے اور باطنی صفائی شرک اور کفر کے خیالات کو مٹا کر اور کعبہ کو قبلہ عالم بنا کر۔خلاصہ رکوع ۱۹ پھر فرمایا اس کام میں مشکلات ہوںگی اور کفار تلوار کے زور سے مسلمانو ںکو اس کام سے روکیں گے لیکن انہیں اس سے ڈرنا نہیں چاہیے بلکہ دعا اور کوشش سے اس کام میں لگا رہنا چاہیے او ریاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جاتے ہیں وہی ابدی زندگی پاتے ہیں۔مسلمانوں کی یہ کوشش ضرور بار آور ہو گی اور