تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 79
اس امر کے تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا کہ یہ تفہیم صرف اور صرف فضل ِ الٰہی سے حاصل ہوئی ہے۔سورۃ کے مضامین کو سمجھنے کی کنجی تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ستائیس سال کا عرصہ گذرا کہ میں چند دوستوں کو قرآن کریم پڑھا رہا تھا۔سورۂ بقرہ کا درس تھا جب میں اس آیت پر پہنچا کہ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ(البقرۃ:۱۳۰) تو یکدم میرے دل پر القاء ہوا کہ یہ آیت اس سورۃ کے مضامین کی کنجی ہے اور اس سورۃ کے مضامین اس آیت کے مضامین کے مطابق اور اسی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں۔مَیں نے جب اس علم سے فائدہ اُٹھا کر سورہ بقرہ کا مطالعہ کیا تومیری حیرت اور عقیدت کی کوئی حد نہ رہی کیونکہ سورۂ بقرہ کو مَیں نے نہ صرف اس آیت کے مضامین کے مطابق پایا بلکہ اس کے مضامین باوجود مختلف قسم کے ہونے کے میرے ذہن میں ایسے مستحضر ہو گئے کہ مجھے یُوں معلوم ہوا کہ گویا اس کے مضامین موتیوں کی لڑی کی طرح پروئے ہوئے ہیں۔اس آیت کو دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے مکہ میں ایک نبی کے مبعوث ہونے کے لئے کی ہے اور اس دعا کا مضمون یہ ہے کہ اس شہر اور اس قوم میں ایک ایسا نبی مبعوث ہو جو (۱) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان اور یقین کو درست اور مضبوط کرنے والے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والے دلائل لوگوں کے سامنے بیان کرے جو دنیا کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے راستہ کے نشان اور شمع ہدایت ثابت ہوں (۲) وہ لوگوں کے سامنے ایک مکمل کتاب پیش کرے (۳)جو شریعت وہ دنیا کے سامنے پیش کرے اس کے اندر احکام اورمذہب کی اور ان تمام دینی امور کی جن پر مذہب کی ترقی کا مدار ہے حکمت بھی بیان کی گئی ہو (۴) وہ ایسے ذرائع اختیار کرے اورایسے طریق بتائے جن سے قوم کی ترقی اور پاکیزگی کے سامان پیدا ہوں۔ان مضامین کو سامنے رکھ کر جب َمیں نے سورۂ بقرہ کو دیکھا تو اس کے مضامین کو لفظاً لفظاً ان مضامین کے مطابق پایا بلکہ َمیںنے دیکھا کہ وہ مضامین بیان بھی اُسی ترتیب سے ہوئے ہیں جس ترتیب سے ان کا اس آیت میں ذکر ہے اور ہر حصہ میں اس آیت کے الفاظ کی طرف اشارہ بھی کر دیا گیا ہے یعنی آیات کے مضمون میں آیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے پھر کتاب اور حکمت کا مضمون بیان کیا ہے اور کتاب اور حکمت کے الفاظ کی طرف اشارہ کیا ہے۔پھر تزکیہ کا مضمون بیان کیا ہے تو اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے چنانچہ مضامین کے لحاظ سے يُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ کا مضمون بیس رکوع تک بیان ہوا ہے اور کتاب اور حکمت کا مضمون اکتیس رکوع تک بیان ہوا ہے۔اور پھر تزکیہ کا مضمون اکتیسویں رکوع سے شروع ہو کر آخر سورۃ پر یعنی چالیسویں رکوع پر ختم ہوا ہے جو شخص اس امر کو مدِّنظر