تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 78

ایک ادبی لطیفہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔لبید بن ربیعہ عامری جاہلیت کے مشہور شعراء میں سے گزرا ہے اس کا ایک قصیدہ سبع معلّقہ میں شامل ہے یعنی اس کے کلام کو عرب کے بہترین سات قصائد میں شمار کیا گیا ہے۔یہ شاعر آخر عمر میں اسلام لے آیا۔اور سورۂ بقرہ کی فصیح زبان سے اس قدر متأثر ہوا کہ اس نے شعر کہنا ہی چھوڑ دیا۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے اس سے اپنا نیا کلام سنانے کی فرمایش کی۔اس نے اس کے جواب میں سورۃ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی حضرت عمرؓ نے اس پر اسے کہا کہ میں نے تم سے اپنے شعر سنانے کو کہاہے۔اس نے جواب دیا کہ مَاکُنْتُ لِاَقُوْلَ بَیْتًا مِّنَ الشِّعْرِ بَعْدَ اِذْ عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ الْبَقَرَۃَ وَاٰلَ عِمْرَانَ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے مجھے سورۃ بقرہ اور آل عمران سکھا دی ہیں تو اب کس طرح ممکن ہے کہ اس کے بعد میں ایک شعر بھی کہوں۔حضرت عمرؓ کو اس کا یہ جواب اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے اس کا وظیفہ جو دو ہزار درہم سالانہ تھا بڑھا کر اڑھائی ہزار کر دیا۔(اُسد الغابۃ۔للبید بن ربیعۃ) بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ معلوم ہوتا ہے مگر جب ہم لبید کے اس مرتبہ کو دیکھتے ہیں جسے عرب کے ادبی حلقہ میں اس زمانہ میں حاصل تھا جو عربی علم ادب کے کمال کا زمانہ کہلاتا ہے اورجس زمانہ کے شعراء کے کلام کو آج تک بہترین کلام سمجھا جاتا ہے اور پھر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اتنا زبردست شاعر جو خود بادشاہِ سخن کہلاتا تھا سورۂ بقرہ کی زبان سے اس قدر متأثرہوا کہ اس نے شعر کو جو اس کی رُوح کی غذا تھی جو اس کی عزت کا ذریعہ تھا جس نے اسے عرب کے حکمران حلقوںمیں صدر مقام پر بٹھا رکھا تھا سورۂ بقرہ کی زبان سے مرعوب ہو کر بالکل ترک کر دیا اور جب اس سے اپنا تازہ کلام سنانے کو کہا گیا تو اس نے حیرت سے جواب دیا کہ کیا سورۂ بقرہ کے بعد بھی کسی اور کلام کی ضرورت رہ جاتی ہے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ایک معجزانہ کلام کے سوا یہ تاثیر اور کسی کلام سے پیدا نہیں ہو سکتی۔خلاصۂ سورۂ بقرہ پیشتر اس کے کہ میں سورۂ بقرہ کی آیات کا مطلب الگ الگ بیان کروں۔میں سورۂ بقرہ کے مضامین کا خلاصہ بیان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے یہ بھی ثابت ہو جائیگا کہ سورۂ بقرہ کو باوجود آخر میں نازل ہونے کے پہلے کیوں رکھا گیا ہے اور اس کے مضامین کی ترتیب بھی مختصر طورپر ذہن میں آ جائے گی جس سے اس کے مطالب کا سمجھنا آسان ہو جائے گا۔سورۂ بقرہ کے مطالب کی تفہیم بطور القاء کے مَیں سورۂ فاتحہ میں بیان کر چکا ہوں کہ اس کی تفسیر مجھے ایک فرشتہ نے رؤیا میں سکھائی تھی سورۂ بقرہ کی تفسیر مجھے اس طرح تو حاصل نہیں ہوئی لیکن اس میںکوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک القاء کے طور پر مجھے اس کی تفسیر بھی سکھائی ہے اور جو شخص بھی ذرا غور سے دیکھے گا اسے معلوم ہو گا کہ جو نکتہ اس بارہ میں مجھے بتایا گیا ہے وہ ساری سورۂ بقرہ کو ایک باترتیب مضمون کی صورت میں بدل دیتا ہے اور