تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 77

جو آیندہ زمانہ میں ہمیشہ کی ضرورتوں کو پورا کرے۔اب اس مضمون کے ابتداء میں بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی کہ اے محمدؐ رسول اللہ! تیری قوم کی حالت خراب ہے اور گو ان میں قابلیت موجود ہے مگر اس قابلیت سے وہ فائدہ نہیں اُٹھا رہے پس تو اُٹھ اور اُن میں تبلیغ کر اور انہیں خدا تعالیٰ کی طرف بُلا۔اب تو قرآن کریم کے پہلے مخاطب وہ لوگ ہوںگے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جن کے زمانہ میں اسلام کو غلبہ حاصل ہو چکا ہے۔اب اس مضمون سے قرآن کریم کا شروع ہونا ضروری ہے جس میں مومنوں کو بتایا جائے کہ قرآن کریم کے نزول کی غرض کیا ہے اور مسلمان ہونے کے لحاظ سے ان پر کیا ذمہ واریاں ہیں؟ اسی طرح اس زمانہ میں غیر مسلم بھی قرآن کو فلسفیانہ نگہ سے دیکھنے کی کوشش کریںگے اور یہ پوچھیں گے کہ دوسرے مذاہب کی موجودگی میں اسلام کی کیا ضرورت ہے؟ ایک مسلمان کونسی ایسی غرض پوری کر رہا ہے جو پہلی اقوام کے لوگ نہیں کر سکتے تھے؟ اسی طرح وہ پہلی کتب کی تعلیمات اور اسلام کی تعلیم کا تفصیلی مقابلہ کر کے دیکھنا چاہیں گے نیز اس پر بحث کریںگے کہ پہلے انبیاء نے جو خاتم النبیین کے بارہ میں پیشگوئیاں کی ہیں اسلام اور بانیء اسلام ان پیشگوئیوں کے مصداق ٹھہرتے ہیں یا نہیں؟ غرض قرآن کریم کی تکمیل کے بعد اس کی طرف توجہ کرنے کا طریقہ ماننے والوں اور نہ ماننے والوں دونوں ہی کے لئے مختلف ہو جاتا ہے اور ایک کامل کتاب تبھی اپنے کمال کو قائم رکھ سکتی ہے جبکہ وہ ان تبدیل شدہ حالات کو مدنظر رکھے اور قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس نے اس ضرورت کو پورا کیا ہے۔نہ تورا ت نہ انجیل اور نہ اور کسی کتاب میں یہ حکمت مدنظر رکھی گئی ہے کہ ابتداء نزول میں پہلے مخاطبین کو مدنظر رکھ کر اور طرح ترتیب ہو اور مذہب کی اشاعت کے بعد اس وقت کے لوگوں کا خیال کرتے ہوئے کتاب کے مضامین کی ترتیب بدل دی گئی ہوتا ان تبدیل شدہ حالات کے مطابق وہ مضامین زیادہ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوں۔پس قرآن کریم کی نزول کی ترتیب اور جمع کی ترتیب میں جو فرق ہے یہ قابلِ اعتراض امر نہیں بلکہ قرآن کریم کی فضیلت اور برتری کی ایک علامت ہے۔سورۂ بقرہ میں جیسا کہ اس کی تفسیر کے پڑھنے سے ثابت ہو گا فطرت انسانی کے پیدا کردہ ان طبعی سوالات کو حل کیا گیا ہے جو فلسفیانہ طور پر ایک مکمل مذہب کے متعلق پیدا ہو سکتے ہیں اور اس کا مضمون ہی بتاتا ہے کہ یہ سورۃ ابتداء میں رکھنے کے لئے ہی نازل کی گئی تھی بلکہ جیسا کہ بتایا جائے گا سورۃ فاتحہ کے مضامین کا اس میں جواب دیاگیا ہے اور اس کے مضامین سے اس کا خاص تعلق ہے جو اس امر کا مزید ثبوت ہے کہ اس کو سب سے پہلے رکھنا اس کی لمبائی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ سورۃ فاتحہ کے مضامین سے اس کے گہرے تعلق کی وجہ سے ہے۔سورہ ٔبقرہ اور اس کی معجزانہ فصاحت و بلاغت کا اعتراف ایک شاعر کی زبان سے اس سورۃ کے متعلق