تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 76

نہ ہو وہ کبھی ایسے کامو ںکے لئے آمادہ نہیں ہو سکتا جو اس کی جان اور اس کے آرام کی قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں۔چنانچہ سب سے پہلی قرآنی آیات میں اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے صرف اسی سورۃ میں نہیں بلکہ دوسری سورتیںجو ابتدائی زمانہ میں نازل ہوئی ہیں ان میں بھی یہی مضمون ہے۔مثلاً سورۂ مُدَّثِّر پہلی سورتوں میں سے ہے اس کی ابتدائی آیات بھی اسی مضمون کی ہیں فرماتا ہے۔يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ۔قُمْ فَاَنْذِرْ۔وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۔(المدّثر: ۲ تا ۴)ا ے ماموریت کا خلعت پہننے والے! اُٹھ اور لوگوں کو ہوشیار کر اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔سورۂ مُزَّمِّل بھی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس کی ابتداء بھی اسی طرح کی ہے۔يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ۔قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا۔نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا۔اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا۔اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا۔(المزّمل:۲تا۶) یعنی اے نبوت کی چادر اوڑھنے والے !راتوں کو جاگ کر عبادت کیا کر۔نصف رات یا نصف سے کم یا نصف سے زیادہ عبادت میں گزار۔اور قرآن کو پڑھتا رہا کر کیونکہ ہم تجھ پر ایک ایسی ذمہ داری نازل کرنے لگے ہیں جس کا اُٹھانا آسان کام نہیں۔سورۂ عَلَق و مُدَّثِّر کے مضمون اور ان کی اہمیت ان ابتدائی سورتوں کے مضامین سے ظاہر ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی صفات۔انسانی پیدائش کی غرض عبادت کی ضرورت۔دنیا میں شرارت اور گناہ کی ترقی وغیرہ کے مضامین بیان کرنے کے علاوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ پر آمادہ کرنے اور اس کے لئے آپؐ کے دل میں جوش پیدا کرنے پر خاص زور دیا گیا ہے۔گویا ان آیات میں محمد رسول اللہ کو نبوت کے عظیم الشان کام کے لئے تیار کیا گیا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ بغیر اس تیاری کے نہ تو آپؐ اس کام کی اہمیت کو سمجھ سکتے تھے جو آپ کے سپرد ہونے والا تھا۔اور نہ آپ اس کام کو عمدگی سے انجام دے سکتے تھے۔پس ابتداء میں ایسے ہی کلام کی ضرورت تھی اسی طرح اس مضمون کے بعد خدا تعالیٰ کی صفات، ضرورتِ نبوت، تقویٰ اور پاکیزگی کے مضامین، ضرورت دعا، قضا و قدر، بعث بعد الموت وغیرہ مضامین کے متعلق تعلیمات کے بیان کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ اس وقت تک کوئی جماعت قائم نہ ہوئی تھی اورنہ دین مکمل ہوا تھا پس ضروری تھا کہ ابتدائی ضروری امور کو اختصار کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھ دیا جائے تاکہ وہ اصولی باتیں جو اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق کرنے والی تھیں لوگوں کے سامنے آ جائیں۔لیکن جب قرآن مکمل ہو گیا جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی جب ان کے ساتھ رہنے سہنے کی وجہ سے بہت سے مضامین سے غیر مسلموں کو بھی واقفیت ہو گئی اور مسلمانوں کی نسل بھی چل پڑی جس نے ابتدائی اور اصولی باتیں اپنے ماں باپ سے بچپن میں ہی سیکھ لیں تو اب قرآن کریم کے پڑھنے والے کے لئے ایک اور ترتیب کی ضرورت پیش آئی