تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 62
نے جو سورۃ فاتحہ کو قرآن عظیم قرار دیا ہے اس کے یہ معنے نہیں کہ سورۂ فاتحہ قرآن عظیم ہے اور باقی قرآن چھوٹا ہے کیونکہ یہ امر بالبداہت غلط ہے پس اس کی وجہ اور ہے اور میرے نزدیک وہ وجہ اُمُّ الْقُرْآن اوراُمُّ الْکِتَاب والے نام ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ فاتحہ کو اُمُّ الْقُرْآن اوراُمُّ الْقُرْآن کہا تو آپؐ نے خیال فرمایا کہ اس سے شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ شائد یہ سورۃ قرآن کریم سے الگ ہے اس لئے آپؐ نے اس کا نام قرآن عظیم بھی رکھا تاکہ مسلم<mark>ان</mark>وں پر یہ واضح رہے کہ سورہ فاتحہ قرآن کریم سے باہر نہیں بلکہ اس کا حصہ ہے کسی چیز کا حصہ بھی چونکہ پوری چیز کے نام میں شریک ہوتا ہے اس لئے آپؐ نے سورۃ فاتحہ کو قرآنِ عظیم فرمایا۔ہم ہمیشہ جب قرآن کریم کا کوئی حصہ سننا چاہیں تو <mark>کہتے</mark> ہیں کہ حافظ صاحب قرآن کریم کی تلاوت فرمائیں یا <mark>کہتے</mark> ہیں کہ فلاں شخص قرآن کریم پڑھ رہا ہے یا ایک آیت میں جو مضمون ہوتا ہے اس کے بارہ میں <mark>کہتے</mark> ہیں کہ قرآن یُوں کہتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہمارے نزدیک صرف وہ سورۃ یا آیت قرآن ہے باقی قرآن نہیں بلکہ ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ سورۃ یا وہ آیت جسے ہم پڑھتے ہیں یا جس کا حوالہ دیتے ہیں قرآن کا حصہ ہے۔اس جگہ ایک اور <mark>لطیف</mark>ہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ فاتحہ کو اُمُّ الْقُرْآن اور اُمُّ الْکِتَاب بھی فرمایا ہے اور قرآن عظیم بھی فرمایا ہے گویا ایک طرف اسے ذریعہ پیدائش قرار دیا دوسری طرف اسے وہ چیز بھی قرار دیا جو اس سے پیدا ہوئی ہے اس میں ایک زبردست روح<mark>ان</mark>ی نکتہ نکلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ روح<mark>ان</mark>ی دنیا میں پہلی حالت دوسری حالت کی پیدا کرنے والی ہوتی ہے اس لئے پہلی حالت ایک جہت سے ماں کہلاتی ہے اور بعدکی حالت اولاد کہلاتی ہے اسی نسبت سے سورۃ فاتحہ کو امّ القرآن بھی کہا گیا اور بوجہ اس کے کہ وہ خود قرآن بھی ہے اسے قرآن بھی کہا گیا۔<mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>وں کے متعلق بھی ایسے ہی تغیرات کے مواقع پر اس قسم کے تشبیہی الفاظ استعمال کر لئے جاتے ہیں چن<mark>ان</mark>چہ سورہ تحریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومنوں کی مثال اِمْرَأَۃَ فِرْعَوْن اور مریم بنت عمر<mark>ان</mark> سے دی جا سکتی ہے اور جن مومنوں کی مثال مریم بنت عمر<mark>ان</mark> سے دی ہے <mark>ان</mark> کے متعلق آخر میں فرمایا ہے۔فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَ<mark>ان</mark>َتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ(التّحریم :۱۳) ہم نے اس کے <mark>ان</mark>در اپنا کلام پھونکا اور وہ اپنے رب کے کلام پر اوراس کی کتابوں پر ایم<mark>ان</mark> لائی اور آخر وہ ایک فرم<mark>ان</mark>بردار مرد کی طرح ہو گئی یعنی جو لوگ مریمی صفت ہوتے ہیں جب ترقی کرتے کلام الٰہی کے مورد ہو جاتے ہیں تو مسیحی نفس بن جاتے ہیں۔