تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 63
غرض سورۃ فاتحہ کا نام اُمُّ الْقُرآن اور اُمُّ الْکِتَاب بھی رکھنا اور اسے قرآنِ عظیم بھی کہنا اسلامی اصطلاحات پر ایک لطیف روشنی ڈالتا ہے او ران لوگوں کے لئے اس میں ہدایت ہے جو اس مسئلہ کو نہیں سمجھ سکے کہ امت محمدیہ کے ایک شخص کا نام کس طرح مریم بھی رکھا گیا اور عیسیٰ بھی۔اگر سورہ فاتحہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی اُم بھی فرماتے ہیں اور قرآن بھی۔تو ایک سچے مسلمان کے لئے اس امر کا سمجھنا کیا مشکل ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو مریم بھی فرماتا ہے اور عیسیٰ بھی۔اس کی وہ حالت جب وہ خدا کے سامنے اس زمانہ میں ایک مسیح کے ظہور کے لیے چلا رہی تھی مریمی حالت تھی اور اس کی وجہ سے وہ مریم کہلایا جس طرح سورۃ فاتحہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی دعا کی وجہ سے جو ایک ہدایت نامہ کے لئے پکار رہی تھی اُمّ الْقُرْآن اور اُمّ الْکِتَاب کہلائی۔لیکن جب اس فرد کامل کی دعا سنی گئی اور خدا تعالیٰ نے اسی کو دنیا کے لئے مسیحی نفس عطا کر کے مبعوث فرما دیا تو وہ عیسیٰ کہلایا۔جس طرح اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی پکار نے بلند ہو کر جب قرآن کریم کو دنیا کی طرف کھینچا اور یہ دُعا خود اس کا حصہ بن گئی تو اُمّ الْقُرْآن اور اُمّ الْکِتَاب کہلانے کے بعد وہ قرآنِ عظیم کہلانے لگی۔مسلمانوں کی ہدایت اور ترقی کے لئے ایک عظیم الشان مطمح النظر اس دعا کے بارہ میں ایک اور نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے جسے صحابہ نے مدنظر رکھا اور ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا جس کی مثال دنیا کی کسی اور قوم میں نہیں مل سکتی اور اگر بعد کے مسلمان بھی اسے یاد رکھتے تو یقینا وہ بھی ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھاتے کہ دنیا کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ کے لئے یادگار رہ جاتا۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس زرّین ہدایت کو جو اس آیت میں بیان کی گئی تھی بھلا دیا اور اس معیار سے گر گئے جس پر کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھڑا کرنا چاہتا تھا۔اگر آج بھی مسلمان اس ہدایت کو اپنا مطمح نظر بنا لیں تو سب تکلیفیں ان کی فوراً دُور ہو سکتی ہیں اور پھر وہ بے مثال عزت اور رفعت حاصل کر سکتے ہیں۔وہ سبق جو اس آیت میں بیان ہوا ہے یہ ہے کہ ہر قوم کا ایک مقصد ہوتا ہے اور وہ اس مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد کرتی ہے۔اسی طرح دُنیا کی پیدائش کا بھی ایک مقصد ہے جو قوم اس مقصد کو پورا کر دے دُنیا کی پیدائش کا اصل مقصود کہلانے کی وہی قوم مستحق ہو گی۔آدم علیہ السلام دُنیا میں آئے اور کچھ نیکیاں انہوں نے دُنیا کو بتائیں اس زمانہ کے لوگوں کے لئے وہ نہایت اعلیٰ تعلیم پر مشتمل تھیں۔ان نیکیوں پر عمل کر کے اس زمانہ کے لوگوں نے بہت بڑی روحانی اور اخلاقی تبدیلی پیدا کی اور ان کی ذہنی قوتیں پہلے لوگوں سے بہت آگے نکل گئیں مگر ابھی انسان اس کمال کو نہ پہنچا تھا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا تھا پس اس کی ترقی کے لئے جستجو جاری رہی یہاں تک کہ