تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 566

نہیں ہوا بلکہ اِسْتِبْدَال کے معنوں میں استعمال ہوا ہے (بحر محیط زیر آیت ھٰذا)آیت نمبر ۱۷ میں بتایا جا چکا ہے کہ لغت کے رو سے ایک معنٰی اِشْتِرَاء کے یہ بھی ہیں کہ ایک چیز کو چھوڑ دیا اور دوسری کو لے لیا۔لغت میں لکھا ہے وَکُلُّ مَنْ تَرَکَ شَیْئًا وَتَمَسَّکَ بِغَیْرِہٖ فَقَدِاشْتَرَاہُ (اقرب) یعنی جو شخص ایک چیز کو ترک کر دے اور دوسری کو اختیار کرے اس کے لئے بھی اشتراء کا لفظ عربی میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس آیت میں یہی معنے ہیں اور یہ مطلب نہیں کہ میری آیات دے کر تھوڑا مال نہ لو بلکہ یہ معنے ہیں کہ میری آیات کو نہ چھوڑو اور تھوڑے مال کو اختیار نہ کرو۔تھوڑے مال سے مراد دنیا ہے کیونکہ قرآن کریم میں آتا ہےقُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ (النّساء:۷۸) دنیا کا سب سامان تھوڑا ہے۔پس مراد یہ ہے کہ دین چھوڑ کر دنیا کو اختیار نہ کرو۔اس میں بنی اسرائیل کو زجر کی ہے کہ تمہارا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے سے انکار کرنا باوجود اس کے کہ تمہاری کتب میں ان کی پیشگوئیاں موجود ہیں محض اپنی لیڈری کے کھوئے جانے کے خوف سے ہے تم کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا گراں گزرتا ہے اور ان کی مخالفت کر کے اپنی قوم کی سرداری قائم رکھنا زیادہ عزیز ہے گویا دنیا کی معمولی عزت اور تھوڑے سے پیسوں کے لئے تم ان پیشگوئیوں کو ترک کر رہے ہو جو تمہاری کتب میں موجود ہیں۔یہود کا محض دنیا کی خاطر آنحضرتؐ کا انکار کرنا حدیثوں میں آتا ہے۔دو یہودی عالم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے واپس جاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نبی وہی ہے جس کا ذکر ہماری کتب میں آتا ہے لیکن ماننا تو نہیں کیونکہ ہماری جماعت کے لوگ ہمیں قتل کر دیں گے یہی ذہنیت ہے جو اکثر لوگوں کو سچائی سے محروم کر دیتی ہے۔(مسند احمد بن حنبل مسند الکوفیین حدیث صفوان بن عسال) وَاِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ اس فقرہ کی بناوٹ بھی وَ اِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ کی طرح ہے (دیکھو آیت نمبر ۴۱ سورۃ ہذا ) اور یہ پورا جملہ یوں ہوتا ہے وَاتَّقُوْا اِیَّایَ تَنَبَّھُوْا فَاتَّقُوْنِ مجھ سے ڈرو ہوشیار ہو جائو اور مجھ سے ڈرو اس میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان دنیا کو اس لئے اختیار کرتا ہے کہ زندگی میں تکلیف سے ڈرتا ہے مگر یہ ڈر عبث ہے کیونکہ تکلیف اور آرام خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے پس دنیا کا آرام بھی خدا تعالیٰ کو خوش کر کے مل سکتا ہے اسے چھوڑ کر نہیں مل سکتا۔