تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 565

میرے نزدیک اس کی ایک اور تشریح بھی ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ جب یہ کتاب تمہاری کتب کی پیشگوئیوں کی مصدّق ہے تو تمہارا اس کتاب کا انکار کرنا اوّل درجہ کا کفر ہو گا کیونکہ جو لوگ جاہل ہیں ان کا انکار نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور انہیں معذور سمجھا جا سکتا ہے لیکن تم کو معذور نہیں سمجھا جا سکتا۔گویا یہ مراد نہیں کہ چھوٹا کفر جائز ہے یا بعد میں انکار کرنا جائز ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ کفر بہرحال ناجائز ہے مگر تمہارا کفر تو اوّل درجہ کا کفر ہے اور زیادہ خطرناک ہے یا یہ کہ تم کو کفار کی اوّل صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔یہ محاورہ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی استعمال ہوا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ (قٓ :۳۰) میں اپنے بندوں پر بہت بڑا ظلم کرنے والا نہیں ہوں اس کے یہ معنے نہیں کہ میں تھوڑا ظلم کر لیتا ہوںبلکہ یہ معنے ہیں کہ پہلا مضمون جو گزرا ہے اگر اسے تسلیم کیا جائے تو اللہ تعالیٰ بڑا ظالم ثابت ہوتا ہے مگر وہ ایسا نہیں ہے اُردو میں بھی یہ محاورہ مستعمل ہے کہتے ہیں اتنا قہر کیوں توڑتے ہواس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ چھوٹا قہر بیشک توڑو بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی پر ظلم کرنا تو ناجائز ہے پھر تم اس قدر بڑا ظلم کیو ںکرتے ہو یا یہ کہ جھوٹ بولنا تو ناپسندیدہ ہے پھر تم اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولتے ہو؟ کَافِر بِہٖ میں بِہٖ کا مرجع کَافِرٍ بِہٖ میں ہٖ کی ضمیر بِمَا اَنْزَلْتُ میں جو مَا ہے اس کی طرف بھی جا سکتی ہے اس صورت میں اس کے معنے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کے نئے کلام یعنی قرآن کریم کے کافرنہ بنو اور لِمَا مَعَکُمْ کے مَاکی طرف بھی جا سکتی ہے اس صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ یہ قرآن تو تمہاری کتب کی پیشگوئیوں کو پُورا کرنے والا ہے دوسرے لوگ ان پیشگوئیوں کے مُنکر ہوں تو ہوں تم کیوں دوسروں سے بھی جلدی کر کے خود اپنی کتب کی تکذیب کرتے ہو۔وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْمیں ثَـمَن سے مراد دنیا کا سامان وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا میری آیات کو چھوڑ کر تھوڑی قیمت نہ لو۔مسلمانوںکی بدقسمتی ہے کہ اس زمانہ میں قرآن کریم کے معنوں کو بگاڑنے والے لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔بعض مُلَّا چار پانچ آنہ والا قرآن خرید کر دیہاتیوں کے ہاتھوں میں دو چار روپیہ کو فروخت کرتے ہیں اور کوئی اعتراض کرے تو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ میری آیات کو تھوڑی قیمت پر فروخت نہ کرو۔مُردوں پر جو قُلْکئے جاتے ہیں ان میں بھی اس بیہودہ خیال پر بناء رکھ کر قرآن بخشا جاتا ہے یہ سب بیہودہ خیالات ہیں اور اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں اگر اس آیت کے یہ معنے ہوتے تو الفاظ یوں ہوتے وَلَا تَشْتَرُوْا اٰیٰتِیْ بِثَمَنِ قَلِیْلٍ کیونکہ عربی محاورہ کے مطابق ب قیمت پر آیا کرتی ہے پس تھوڑی قیمت لینی مراد ہوتی تو ب ثَـمن پر آتی مگر ب ثَـمن پر نہیں بلکہ آیات پر آئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں اِشْتِرَاءٌ کا لفظ خریدو فروخت کے معنوں میں استعمال ہی