تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 567
وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۴۳ اور جانتے بوجھتے ہوئے حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور نہ حق کو چھپاؤ۔حَلّ لُغَات۔لَا تَلْبِسُوْا۔لاَ تَلْبِسُوْانہی جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور لَبَسَ عَلَیْہِ (یَلْبِسُ) الْاَمْرَ لَبْسًا کے معنے ہیں خَلَطَہٗ وَجَعَلَہٗ مُشْتَبِھًا بِغَیْرِہٖ ایک معاملہ کو دوسرے معاملہ کے ساتھ ملا کر مشتبہ کر دیا (اقرب) پس لَاتَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ کے معنے ہوں گے کہ حق کو باطل کے ساتھ نہ ملائو۔اَلْـحَقُّ۔اَلْـحَقُّ ضِدُّ الْبَاطِلِ جھوٹ کے خلاف چیز یعنی سچ۔اَ لْاَمْرُ الْمَقْضِیُّ ہو کر رہنے والی بات۔اَلْعَدْلُ انصاف۔اَ لْمِلْکُ مالکیّت۔اَ لْمَوْجُوْدُ اَلثَّابِتُ یعنی ثابت رہنے والی چیز۔اَلْیَقِیْنُ بَعْدَ الشَّکِّ شک کے بعد یقین کا آنا۔(اقرب) اَلْبَاطِلُ۔اَلْبَاطِلُ نَقِیْضُ الْحَقِّ وَھُوَ مَالَاثَبَاتَ لَہٗ عِنْدَ الْفَحْصِ۔یعنی باطل حق کے مقابل پر بولا جاتا ہے اور باطل اس چیز پر بولتے ہیں جس کی تحقیق کی جائے تو کوئی حقیقت نہ نکلے۔(مفردات) تفسیر۔انبیاء کے مخالفین کا سچی باتوں کے ساتھ جھوٹی باتیں ملا کر انبیاء کے دعویٰ کو جھوٹا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنا تَلْبِسُوْا لَبَسَ سے بنا ہے۔لَبَسَ ضَرَبَ یَضْرِبُ کے وزن پر بھی آتا ہے اور عَلِمَ یَعْلَمُ کے وزن پر بھی۔جب یہ ضَرَبَ یَضْرِبُ کے وزن پرہو تو اس کے معنے چیز کو مخلوط کر کے مشتبہ کر دینے کے ہوتے ہیں اور جب عَلِمَ یَعْلَمُ کے وزن پرہو تو اس کے معنے پہننے کے ہوتے ہیں۔لباس اسی میں سے بنا ہے اس آیت میں چونکہ تَلْبِسُوْاہے یعنی ب کے نیچے زیر ہے اس لئے اس کے معنے مخلوط کر کے مشتبہ بنا دینے کے ہیں اور آیت کا یہ ترجمہ ہے کہ حق میں باطل ملا کر اسے مشتبہ نہ بنا دو۔انبیاء کے دشمن ہمیشہ یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں یعنی کوئی سچی بات لی اور اس میں ایک جھوٹ ملا دیا اور شور مچا دیا کہ مدّعی کا دعویٰ جھوٹا ہے یہود سب علامتوں کو تسلیم کر کے کبھی کہہ دیتے کہ اصل علامت آنے والے کی یہ ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہو گا کبھی کہہ دیتے کہ اصل علامت یہ ہے کہ وہ یروشلم میں ظاہر ہو گا اس طرح عوام کو سچ قبول کرنے سے محروم کر دیتے ہیں حالانکہ صداقت کے پہچاننے میں اصل چیز جسے مدنظر رکھا جاتا ہے یہ ہے کہ موعود اس غرض کو پُورا کرتا ہو جس کے لئے اس کی خبر دی گئی تھی اس زمانہ میں ظاہر ہو جس میں اس کے ظہور کی سب سے زیادہ ضرورت ہو اور کچھ حصہ پیشگوئیوں کا ظاہر میں اس کے حق میں پورا ہو جائے ورنہ پیشگوئیوں میں چونکہ اخفاء کو مدِّنظر رکھا جاتا ہے کچھ حصہ ان کا تعبیر طلب ہوتا ہے بیشک