تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 557

پیشگوئیاں تو بہت ہیں جن کو پورا کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے انبیاء کے کلام کی تصدیق کی ہے مگر میں اس موقعہ پر اس پر بس کرتا ہوں انہی مثالوں سے ہر غیر متعصب اس امر کو سمجھ سکے گا کہ قرآن کریم کا بنی اسرائیل سے یہ کہنا کہ وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ کیسا سچا دعویٰ ہے قرآن کریم بنی اسرائیل کی کتب کی خبروں کو پورا کرنے والا ہے بنی اسرائیل میں سے جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے وہ اس کا انکار نہیں کرتا وہ اپنی کتب کا انکار کرتا ہے جنہوں نے اس کے ظہور کی خبر دی تھی۔قرآن کریم کے مصدّق ہونے پر عیسائیوں کا اعتراض اور اس کا جواب بعض مسیحی مصنف اس آیت کی نسبت اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ قرآن کریم نے اس آیت میں یہ اعلان کیا ہے کہ جو کچھ تمہاری موجودہ کتب میں لکھا ہے وہ سب سچ ہے اور یہ معنے کر کے وہ اعتراض کرتے ہیں کہ جبکہ قرآن کریم کے نزدیک موجودہ بائبل درست ہے تو پھر قرآن کریم جھوٹا ہوا کیونکہ وہ موجودہ بائبل کے خلاف مضامین بیان کرتا ہے میری سمجھ میں یہ ذہنیت کبھی بھی نہیں آتی کہ چونکہ الف ، باء کو سچا کہتا ہے اس لئے وہ جھوٹا ہے یہ تو گویا احسان کا بدلہ ظلم سے دینا ہے مگر جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں۔تصدیق کے دو معنی کسی کو سچا کہنے اور کسی کی بات کو پورا کرنے کے اس آیت کے وہ معنے ہیں ہی نہیں جو یہ پادری صاحب کرتے ہیں انہیں تصدیق کے لفظ سے دھوکا لگا ہے حالانکہ تصدیق کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے کسی کو سچا کہنے کے معنوں میں بھی اور اس کی بات کو پورا کرنے کے معنو ںمیں بھی۔اور یہاں وہ دوسرے معنے ہیں قرآن کریم دوسری جگہ فرماتا ہے وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ۔فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ (آل عمران :۸۲،۸۳) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ فرماتے ہوئے پختہ عہد لیا کہ میرے تم کو کتاب اور حکمت دینے کے بعد جو ایسا رسول آئے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ اس کا مصدق ہو تو تم اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا پھر فرمایا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس بارہ میں مجھ سے پختہ عہد باندھتے ہو، انہوں نے جواب میں کہا کہ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں اس پر فرمایا کہ اب تم بھی گواہ رہو اور میں بھی تمہارا گواہ رہوں گا اور یہ بھی یاد رکھو کہ اب اس عہد کے بعد جو لوگ اس سے پھر جائیں گے وہ فاسقوں میں سے گنے جائیں گے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک تمام انبیاء کو ایک ایسے نبی کے آنے کی خبر دی گئی تھی جو سب انبیاء کی کتب کی تصدیق کرے گا اور اس پر ایمان لانا سب