تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 553

کے نام پر آنے والا خدا کا بیٹا کہلانے والے کے بعد آئے گا چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد تشریف لائے اور آپ کا آنا خدا کا آنا کہلایا۔چنانچہ آپؐ کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ(الفتح :۱۱) یعنی وہ لوگ جو تیرے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ اللہ کی بیعت کرتے ہیں تیرا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہوتا ہے۔ان الفاظ میں کہ آپ کا آنا خدا کا آنا ہے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ آپ مثیل موسیٰ ہوں گے کیونکہ حضرت موسیٰ کی نسبت آتا ہے کہ وہ خدا کی مانند تھا۔چنانچہ خروج باب ۷ آیت ۱ میں ہے کہ ’’پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا۔دیکھ میں نے تجھے فرعون کے لئے خدا سا بنایا۔‘‘ پس خدا کے مانند ہونے کے معنے دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ وہ مثیل موسیٰ ہو گا اور اس طرح گویا استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ کی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی جنگوں کا نقشہ کھینچنا پھر اس پیشگوئی میں ہے کہ وہ پتھر جس پر گرے گا اسے پیس ڈالے گا اور جو اس پر گرے گا ُچور ُچور ہو گا سو ایسا ہی آپ سے ہوا۔باوجود انتہائی غربت اور کمزوری کے ساری قوموں سے آپؐ کی لڑائی ہوئی اور آپؐ کامیاب رہے حضرت مسیح علیہ السلام نے تو آپؐ کی جنگوں کا نقشہ ہی کھینچ دیا ہے یعنی فرماتے ہیں۔’’جو اس پتھر پر گرے گا وہ چور ہو جائے گا پر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا‘‘ یعنی اس کی جنگوں کی یہ کیفیت ہو گی کہ پہلے دشمن اس پر حملہ کرے گا اور سخت نقصان اٹھاتا رہے گا بعد میں وہ دشمن پر حملہ کرے گا اور اسے تباہ کر دے گا اسی طرح آپؐ سے ہوا کہ پہلے آپؐ کے دشمن آپؐ پر حملہ کرتے رہے اور چوُر ہوتے رہے بعد میں آپؐ نے حملہ کیا اور ان کی شوکت کو بالکل توڑ دیا۔دانیال نبی نے یہ خبر بھی دی تھی کہ اس کی جنگ اپنی ہی قوم سے نہ ہو گی بلکہ اس کے زمانہ کی زبردست حکومتوں سے بھی ہو گی اور وہ بھی اس کے ہاتھوں تباہ ہوں گی چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں آپ کی پیشگوئی کے مطابق قیصر کی حکومت تباہ ہوئی دانیال نبی نے اس حکومت کے مذہب کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے فرماتے ہیں ’’اور جیسا تو نے دیکھا کہ لوہا گلاوے سے ملا ہوا ہے وے اپنے کو انسان کی نسل سے ملا دیں گے لیکن جیسے لوہا مٹی سے میلنہیں کھاتا تیسا وے باہم میل نہ کھائیں گے‘‘ (دانیال باب ۲ آیت ۴۳) اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ قوم ایک ایسے مذہب سے وابستہ ہو گی جس میں داخل ہونے کا اسے حق نہ ہو گا کیونکہ یہ فرمانا کہ وہ قوم اپنے آپ کو انسان کی نسل سے ملاوے گی۔اس سے یہ مراد تو نہیں ہوسکتی کہ وہ انسان نہ ہوں گے کیونکہ انسان ہونا تو ان کا ظاہر ہے پس اس کے کوئی معنے کرنے پڑیںگے اور وہ معنے یہی ہو سکتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ابن آدم سے ملانے کی کوشش کریںگے یعنی