تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 552

ہے یعنی دائودؑ۔یسعیاہؑ۔دانیالؑ اور حضرت مسیح ؑ ایسی واضح طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری ہوتی ہیں کہ سوائے تعصب سے اندھے شخص کے کوئی ان کا انکار نہیں کر سکتا۔آپ بنو اسماعیل میں سے تھے جن کو بنو اسحاق نے ہمیشہ ردّ کیا اور ابراہیم ؑ کی برکتوں سے ہمیشہ محروم رکھنے کی کوششیں کیں آپ نے خود دعویٰ فرمایا کہ میں کونے کا پتھر ہوں چنانچہ آپ فرماتے ہیں مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَآءِکَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بُنْیَانًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ فَجَعَلَ النَّاسُ یُطِیْفُوْنَ بِہٖ یَقُوْلُوْنَ مَارَءَ یْنَا بُنْیَانًا اَحْسَنَ مِنْ ھٰذَا اِلَّا ھٰذِہِ اللَّبِنَۃَ فَکُنْتُ اَنَا تِلْکَ اللَّبِنَۃُ (مسلم۔کتاب الفضائل باب ذکرُ کونہ خاتم النبیین) یعنی میرا اور دوسرے انبیاء کا حال یوںہے کہ جیسے کسی نے ایک عمدہ اور خوبصورت محل تیار کیا پھر لوگ کثرت سے اسے دیکھنے کے لئے آنے لگے اور کہتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ محل کوئی نہیں دیکھا۔ہاں! یہ کونہ اس کا ننگا ہے پھر خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا اور میں وہ کونے کا پتھر ہوں۔آپؐ کا وجود نہایت قیمتی وجود تھا اور آپ کی بنیاد مضبوط جیسا کہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ باوجود دنیا کی شدید مخالفت کے تیرہ سو سال سے آپؐ کے مقام کو کوئی نہیں ہلا سکا۔آپؐ کے صحابہ مسیح کے حواریوں کی طرح جلد بازی کرنے والے نہ تھے بلکہ نہایت صاحب ِ وقار تھے۔مسیح کے حواریوں کا تو یہ حال تھا کہ جب مسیح ؑ کو رومی سلطنت نے پکڑا تو وہ ان کا انکار کر بیٹھے اور تتر بتر ہو گئے (متی باب ۲۶ آیت ۵۶۔۷۰۔۷۲۔۷۴) مگر آپؐ کے صحابہ نے خطرناک مواقع پر کہا کہ یا رسول اللہ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیںگے بائیں بھی اور آگے بھی لڑیںگے پیچھے بھی اور دشمن آپؐ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔قرآن کریم ان کی شان میںفرماتا ہے۔وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (الفرقان :۶۴) یعنی محمد رسول اللہ پر ایمان لانے والے اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ زمین پر بڑے اطمینان سے چلتے ہیں اور جلدبازی سے کام نہیں لیتے اور جب جاہل لوگ ان کو گالیاں دیتے ہیں تو وہ غصہ میں آ کر گالیاں نہیں دیتے بلکہ کہتے ہیں کہ ہم تو تمہاری سلامتی چاہتے ہیں پھر فرماتا ہے۔وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا (الفرقان :۷۳) یعنی جب وہ لہو ولعب کے امور کے مواقع کے پاس سے گزرتے ہیں تو دنیوی لذّات سے متأثر ہو کر ان میں شامل نہیں ہو جاتے جیسے کہ مسیح کی اُمت ہے کہ ذکر الٰہی کو بُھول کر ناچ گانے اور موسیقی میں مشغول ہو گئی ہے بلکہ وہ اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے اُخروی زندگی کی طرف جس کے پھل دیر سے ملتے ہیں آگے بڑھ جاتے ہیں۔کونے کا پتھر یعنی آنحضرتؐ کی شان پھر اس کونے کے پتھر کی شان یہ بتائی تھی کہ اس کا آنا خدا تعالیٰ کا آنا کہلائے گا اور وہ خدا تعالیٰ کے نام پر آئے گا۔مسیح علیہ السلام نے اس کی مزید تشریح یہ کر دی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ