تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 539
اگر اس دست برُد کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تب بھی میں کہتا ہوں کہ ان پیشگوئیوں کو دیکھتے ہوئے جو حضرت اسمٰعیل کے حق میں بائبل میں اس وقت تک موجود ہیں ہم جائز طو رپر کہہ سکتے ہیں کہ یہ جو بائبل میں لکھا ہے کہ ’’لیکن میں اسحاق سے جس کو سرہ دوسرے سال اسی وقت معیّن میں جنے گی اپنا عہد قائم کرونگا‘‘ (پیدائش باب ۱۷ آیت ۲۱) اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ یہ عہد ابتداء ً اسحاق کی اولاد کے ذریعہ پورا ہونا شروع ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ پہلے یہ عہد ایک لمبے عرصہ تک بنواسحاق کے ذریعہ سے پورا ہوتا رہا پھر خدا تعالیٰ نے اسے بنو اسمٰعیل کی طرف منتقل کر دیا۔اور اس امر کی وجہ کہ گو اسحاق چھوٹے تھے مگر خدا تعالیٰ کا عہد پہلے ان کی اولاد کے ذریعہ سے پُورا ہونا شروع ہوا ہے یہ ہے کہ حضرت اسمٰعیل کی اولاد کو وہ نبوت ملنی تھی جو منسوخ نہ ہونے والی تھی۔اگر ان کے ذریعہ سے پہلے عہد پورا ہوتا تو بنو اسحاق نعمت سے بالکل محروم رہ جاتے۔پس اللہ تعالیٰ نے پہلے بنو اسحاق کو ایک لمبے عرصہ تک نبوت کے انعام سے حصہ دیا اس کے بعد بنو اسمٰعیل میں وہ نبی مبعوث فرما دیا جو خاتم النبیین تھا اور جس کی شریعت کو کسی اور شریعت نے منسوخ نہ کرنا تھا بلکہ اس نے قیامت تک دنیا پر حکومت کرنی تھی۔اس امر کا قطعی ثبوت کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے جو عہد تھا اس میں حضرت اسمٰعیل ؑ کی اولاد بھی شامل تھی اس سے ملتا ہے کہ جس طرح عہد کا ظاہری نشان بندوں کی طرف سے ختنہ قرار دیا گیا تھا اسی طرح عہد کا ظاہری نشان خدا تعالیٰ کی طرف سے کنعان کی حکومت قرار دیا گیا تھا۔بائبل کا حوالہ میں اوپر نقل کر آیا ہوں لیکن اس جگہ مضمون کو واضح کرنے کے لئے پھر لکھ دیتا ہوں لکھا ہے ’’اور میں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان اُن کے ُپشت در ُپشت کے لئے اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد ہو۔کرتا ہو ںکہ میں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خدا ہوں گا اور میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے دیتا ہوں کہ ہمیشہ کے لئے مِلک ہو اور میں ان کا خدا ہوںگا۔پھر خدا نے ابراہام سے کہا کہ تو اور تیرے بعد تیری نسل ُپشت در ُپشت میرے عہد کو نگاہ رکھیں اور میرا عہد جو میرے اور تمہارے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے جسے تم یاد رکھو۔سو یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک فرزند نرینہ کا ختنہ کیا جاوے اور تم اپنے بدن کی کھلٹری کا ختنہ کرو اور یہ اس عہد کا نشان ہو گا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے‘‘۔(پیدائش باب ۱۷ آیت ۷ تا ۱۱) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ عہد خداوندی کے مادی حصہ کی دو شقّیں تھیں۔ایک شق اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتی تھی اور وہ آلِ ابراہیم ؑ کو کنعان کی بادشاہت دینے کا وعدہ تھا۔اور دوسری شق آل ِابراہیم سے تعلق رکھتی تھی اور وہ ختنہ کرانے کی رسم تھی۔خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ ہمیشہ آلِ ابراہیم کے پاس کنعان رہے گا اور آل ابراہیم سے مطالبہ کیا