تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 538

بڑھائوںگا کہ وہ کثرت سے گنی نہ جائے گی اور خداوند کے فرشتے نے اسے کہا کہ تو حاملہ ہے اور ایک بیٹا جنے گی۔اس کا نام اسمٰعیل رکھنا کہ خداوند نے تیرا دکھ سن لیا۔وہ وحشی آدمی ہو گا۔اس کا ہاتھ سب کے‘ اور سب کے ہاتھ اس کے برخلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بودو باش کرے گا۔‘‘ (پیدائش باب ۱۶ آیت ۱۰ تا ۱۲) گو یہ الہام ہاجرہؓ پر نازل ہوا ہے مگر موسیٰ کی وحی میں اسے شامل کر کے اس کے خدائی الہام ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے پس یہ الہام بھی اسی طرح بنی اسرائیل پر حجت ہے جس طرح حضرت ابراہیم کا اپنا الہام۔اس الہام میں یہ امور بیان ہیں کہ (۱) حضرت اسمٰعیل کی اولاد بھی حضرت اسحاق کی اولاد کی طرح بے انتہا ترقی کرےگی حتّٰی کہ گنی نہ جا سکے گی (۲) اسے ایسی عظمت ملے گی کہ سب دنیا اس سے حسد کرے گی (۳) باوجود اس کے کہ سب دنیا اس کی مخالفت کرے گی وہ ان سے دبے گی نہیں بلکہ ان کے مقابل پر عزت کی زندگی بسر کرے گی۔اس پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ بنو اسمٰعیل کے لئے عالمگیر عزت، شہرت اور عظمت مقدر کی گئی تھی۔اس قدر کہ اس کے نتیجہ میں دنیا کی سب قومیں ان سے حسد کرنے لگیں گی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق آ کر یہی دعویٰ کیا کہ وہ ایسی عظمت حاصل کریںگے کہ سب دنیا ان پر حسد کرنے لگے گی خصوصاً بنو اسحاق۔اور یہ کہ آپ کو سب دنیا پر خدا تعالیٰ غلبہ دے گا۔اس دعویٰ کے ساتھ گویا آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کے الہاموں کو پورا کرنے کا دعویٰ کیا۔اگر آپ ظاہر نہ ہوتے تو ظاہر ہے کہ نہ ابراہیم علیہ السلام کی وہ پیشگوئی پوری ہوتی جو انہوں نے حضرت اسمٰعیل ؑ کی اولاد کے بارہ میں کی تھی اور نہ ہاجرہ پر نازل ہونے والا الہام جو بائبل میں موجود ہے پورا ہوتا مگر رسول کریمؐ کی بعثت کے ساتھ یہ دونوں الہام پورے ہو گئے اور قرآن کریم بائبل کا مصدق ہو گیا یعنی اس کے الہام کو سچا کرنے والا۔یہ جو بائبل میں ہے کہ حضرت اسحاق اس عہد کو پورا کرنے والے ہوں گے جو حضرت ابراہیم ؑ سے ہوا تھا اس کا ایک جواب تو میں پہلے دے آیا ہوں کہ بائبل انسانوں کی دست برُد سے پاک نہیں۔بنو اسحاق کو بنواسمٰعیل سے سخت عداوت تھی۔پس جو کتاب زمانہ جہالت میں ایک لمبے عرصہ تک ان کے ہاتھو ںمیں رہی خدا ہی جانے کہ اس میں انہوں نے کیا کیا تحریف کی ہو گی۔دُور جانے کی ضرورت نہیں۔بائبل کے وہ نسخے جو عزرانبی کے بعد تاریخی زمانہ میں لکھے گئے ہیں ان میں ہی کافی اختلاف ہے یہودیوں، سامریوں اور مسیحیوں کی بائبل کے نسخو ںمیں اختلاف پایا جاتا ہے گو اصولی طور پر وہ متفق ہیں لیکن پھر بھی کافی اختلاف موجود ہے۔جب یہ اختلاف تاریخی زمانہ کا ہے تو خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ عزرا نبی سے پہلے زمانہ میں کیا کیا دست بُرد یہودی کتب میں کر چکے ہوں گے۔