تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 540
کہ وہ بھی ہمیشہ نرینہ اولاد کا ختنہ کرائیں۔ایک زمانہ وہ آیا کہ خدا تعالیٰ نے کنعان یہود سے لے کر مسیحیوں کو دے دیا بوجہ اس کے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسرائیلی نبی تھے اس وقت بھی پیشگوئی قائم رہی اور کنعان آلِ ابراہیم کے قبضہ میں ہی رہا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئیاں بنواسماعیل کے متعلق آنحضرتؐ کے وجود میں پوری ہوئیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معاً بعد سے لے کر ۱۹۱۸ء تک اندازاً تیرہ سو سال تک یہ ملک مسلمانوں کے پاس رہا۔اگر تو بنو اسمٰعیل آل ابراہیم کے وعدہ میں شامل نہ تھے او رپھر بھی یہ ملک تیرہ سو سال ان کے اتباع کے قبضہ میں رہا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی قطعاً باطل ٹھہرتی ہے لیکن چونکہ خدا کی بات جھوٹی نہیں ہو سکتی ثابت ہوا کہ بنو اسمٰعیل عہدِ ابراہیم میں بنو اسحاق سے برابر کے شریک تھے۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی اس فعلی شہادت سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ عہد ابراہیم میں بنو اسمٰعیل بھی شامل تھے اس وجہ سے ان کے قبضہ میں کنعان کا آنا عہدِ الٰہی کے پورا ہونے کے تسلسل میں تھا۔تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عہد الٰہی کا رُوحانی حصہ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے نبوت کا ملنا اور بندہ کی طرف سے دل کا ختنہ کرنا بھی بنو اسمٰعیل کے حق میں پورا ہونا ضروری تھا اور یہ ایفائِ عہد خدا تعالیٰ او ربندہ کی طرف سے جہاں تک بنواسمٰعیل کا تعلق ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں پورا ہوا ورنہ بنو اسمٰعیل میں سے کوئی اور ایسا وجود پیش کیا جائے جس کی ذات سے یہ وعدہ پورا ہوا ہو۔تصدیق نمبر ۲ قرآن کریم اور آنحضرتؐ کا موسیٰ علیہ السلام کے کلام کی تصدیق کرنا دوسری تصدیق قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کلام کی کی۔(۱) کتاب استثنا میں لکھا تھا ’’میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔او رجو کچھ میں اسے فرمائوں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو َمیں اُس کا حساب اُس سے لوں گا لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جاوے‘‘ (استثنا باب ۱۸ آیت ۱۸ تا۲۰) اس پیشگوئی میں خبر دی گئی تھی کہ (الف) آئندہ بنو اسرائیل کے بھائیوں