تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 524

ہوں کہ میں تجھے نہایت بڑھائوںگا تب ابراہیم منہ کے بل گرا اور خدا اس سے ہمکلام ہو کر بولا کہ دیکھ میں جو ہوں میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قومو ںکا باپ ہو گا اور تیرا نام پھر ابرام نہ کہلایا جائے گا بلکہ تیرا نام ابرہام ہو گا (جس کا عربی تلفّظ ابراہیم ہے) کیونکہ میں نے تجھے بہت قوموں کا باپ ٹھہرایا اور میں تجھے بہت برومند کرتا ہوں اور قومیں تجھ سے پیدا ہوں گی اور بادشاہ تجھ سے ـــــــــنکلیں گے اور میں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ان کے پشت در پشت کے لئے اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد ہو کرتا ہوں کہ میں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خدا ہوں گا اور میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے دیتا ہوں کہ ہمیشہ کے لئے ملک ہو اور میں ان کا خدا ہونگا۔‘‘ (پیدائش باب ۱۷ آیت ۲ تا ۸) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے خدا تعالیٰ نے دو وعدے کئے تھے ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی قوم کو کنعان میں داخل کرے گا اور اس کے بعد (۱) انہیں وہاں کا بادشاہ کرے گا (۲) دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کا خدا ہوگا۔خدا ہونے کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہاں روحانی ترقیات کا وعدہ ہے کیونکہ بادشاہت میں دنیاوی ترقیات کا وعدہ آ چکا تھا۔اوپر کے حوالہ سے ثابت ہو جاتا ہے کہ بائبل کے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی اولاد آئندہ زمانہ میں کنعان میں آئے گی اور ان کو بادشاہت اور اعلیٰ روحانی ترقیات عطا ہوںگی۔یہ وعدہ بعد میں حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے بھی دہرایا گیا ہے لیکن ابتداءً اس کا اظہار حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے ہی کیا گیا تھا پس سورۂ مائدہ کی مذکورہ بالا آیت میں جس نبوت اور بادشاہت کے دیئے جانے کا ذکر ہے وہی موعود بادشاہت اور نبوت ہے اور آیت زیر تفسیر میں نعمت سے مراد وہی نعمت مراد ہے جس کا ذکر سورۂ مائدہ میں ہے اور جس کا ثبوت بائبل سے َمیں پیش کر چکا ہوں اس نعمت کو یاد دلا کر یہ اشارہ کیا ہے کہ انعام نبوت آدم پر ختم نہیں ہو چکا بلکہ بنی اسرائیل میں ایک نہیں دو نہیں بلکہ ایک لمبا سلسلہ نبوت کا جاری رہا ہے۔قرآن کریم میں بنی اسرائیل پر اتمام نعمت کے مذکور وعدہ کا ذکر بائبل میں قرآن کریم میں بھی اسی سورۃ میں اس موعود نعمت کا ذکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں کیا گیا ہے چنانچہ فرماتا ہےوَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّيْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ١ؕ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ(البقرۃ :۱۲۵) یعنی یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی بعض کلمات کے ذریعہ آزمائش کی تو ابراہیم نے ان احکام الٰہی کو پورا کر دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تجھے لوگوں کے لئے امام بنانے والا ہوں۔تب ابراہیم ؑ نے عرض کیا کہ میری