تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 523
نہیں کہ تم کو گزشتہ زمانہ میں بادشاہ بنایا گیا تھا بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ تم کو بادشاہ بنانے کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اور چونکہ ساری آیت میں مضمون کا ایک ہی سلسلہ پیش کیا گیا ہے اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ بھی خدا تعالیٰ کے آئندہ وعدے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس میں سابق انبیاء کا ذکر نہیں۔اور مطلب اس قول کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے اس وعدہ کو یاد کرو جو اس نے تم سے کیا ہے کہ وہ تم میں سے کثرت سے نبی بنائے گا اور تم کو بادشاہ بنائے گا اور تم کو وہ کچھ دے گا جو اور کسی قوم کو نہیں دیا گیا گویا سابق شوکت کا ذکر نہیں بلکہ آئندہ ملنے والی شوکت کا ذکر ہے اور ماضی کے الفاظ حتمی وعدہ کے لحاظ سے استعمال کئے گئے ہیں نہ اس لئے کہ ایسا گزشتہ زمانہ میں ہو چکا ہے اس وعدہ کو یاد دلا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قوم کو ارضِ مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور بتایا کہ وہ وعدہ ارضِ مقدسہ میں داخل ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے پس تم ارضِ مقدسہ کو فتح کرنے میں دیر نہ کرو تاکہ اس وعدہ کا ظہور شروع ہو جائے۔آئندہ زمانہ کے واقعات نے اس وعدہ کو پورا ہونے کا عملی ثبوت بہم پہنچا دیا اور بنی اسرائیل میں کثرت سے نبی آئے اور ان کو بادشاہ بنا دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ایک لمبے سلسلہ کے ذریعہ سے ان پر پے در پے روحانی علوم کھولے جس کی مثال اور کسی گزشتہ قوم میں نہیں ملتی۔بنی اسرائیل پر اتمام نعمت کا وعدہ حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ سے شروع ہوا یہ وعدہ کب ہوا؟ بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وعدہ کی ابتداء ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے شروع ہوئی۔بائبل میں لکھا ہے ’’تب اس نے اسے (ابراہیم کو) کہا کہ میں خداوند ہوں جو تجھے کسدیوں کے اُوْر سے نکال لایا کہ تجھ کو یہ ملک میراث میں دُوں۔‘‘ (پیدائش باب ۱۵ آیت ۷) اس کے آگے اسی باب میں بتایا ہے کہ یہ وعدہ اس طرح پورا ہو گا کہ پہلے ان کی قوم ایک اور ملک میں جا کر غلام بنے گی اور چار پشت بعد ان کو وہاں سے نکالا جائے گا۔وہاں سے نکالا جانے کے بعد وہ فلسطین کی بادشاہ بنے گی یہ وقفہ اس لئے پڑے گا کہ اسوری جو فلسطین میں بستے ہیں ابھی تک ان کے گناہ اس حد کو نہیں پہنچے کہ ان کو سزا دے کر اس ملک سے نکالا جائے۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ پہلے وعدہ ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا تھا اور اس کے پورا ہونے کا وقت وہ بتایا گیا تھا جب بنی اسرائیل مصر میں غلام بن کر رہنے کے بعد وہاں سے نکلیں گے اور یہ زمانہ جیسا کہ بائبل تاریخ اور قرآنِ کریم سے ثابت ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ تھا۔پس ان آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جو قول بتایا گیا ہے اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وعدہ کی طرف اشارہ ہے کہا جا سکتا ہے کہ اس وعدہ میں بادشاہت کا تو ذکر ہے مگر نبوت کا ذکر نہیں مگر بائبل کے دوسرے مقامات کو ملا کر اس حصہ کا بھی پتہ لگ جاتا ہے۔چنانچہ سترھویں باب میں لکھا ہے ’’اور میں اپنے اور تیرے درمیان عہد کرتا