تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 525
اولاد میں سے بھی بعض کو امام بنایا جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ظالموں کو میرا عہد نہیں پہنچے گا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ (۱) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو امام بنانے یعنی اولوالامر نبی کے درجہ پر فائز کرنے کا وعدہ فرمایا(۲) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کی نسبت بھی اس وعدہ کی توسیع کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے مشروط وعدہ فرمایا یعنی وعدہ کیا کہ تمہاری اولاد میں سے بعض اس عہد سے حصہ پائیں گے مگر حصہ پانے والے وہی ہوں گے جو قومی ظلم کے ذریعہ سے اپنے آپ کو محروم نہ کر چکے ہوں۔وَاَوْ فُوْا بِعَھْدِیْمیں اس طرف اشارہ کہ بنی اسرائیل کے ساتھ وعدہ مشروط تھا وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِيْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ اس جملہ میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ گو آخری قوم جس میں الہام کا سلسلہ دیر تک جاری رہا بنی اسرائیل کی قوم تھی لیکن ان سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ مشروط تھا۔جب تک بنی اسرائیل اس وعدہ کے مستحق رہے اللہ تعالیٰ اپنے عہد کو پورا کرتا رہا مگر جب بنی اسرائیل کلّی طور پر اس عہد کے انعامات کے ناقابل ہو گئے تو لازماً وہ عہد دوسری طرف منتقل ہو گیا۔اوپر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو وعدہ کیا گیا تھا اس کا ذکر آ چکا ہے۔وہ وعدہ یہ تھا کہ ان کی اولاد میں بھی نبی ہوں گے مگر جب ان کی اولاد کا کوئی حصہ ظالم ہو جائے گا تو پھر وہ اس عہد کا مستحق نہیں رہے گا اور عہد اولاد کے دوسرے حصہ کی طرف منتقل ہو جائے گا۔خدا تعالیٰ کے اتمام نعمت کا وعدہ مشروط ہونے کا ذکر بائبل میں بائبل میں بھی اس عہد کے مشروط ہونے کا ذکر ہے۔پیدائش باب ۱۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’پھر خدا نے ابراہام سے کہا کہ تو اور تیرے بعد تیری نسل پشت در پشت میرے عہد کو نگاہ رکھیں اور میرا عہد جو میرے اور تمہارے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے جسے تم یاد رکھو سو یہ ہے کہ تم میں سے ہر اک فرزند نرینہ کا ختنہ کیا جائے اور تم اپنے بدن کی کھلڑی کا ختنہ کرو اور یہ اس عہد کا نشان ہو گا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے‘‘ (پیدائش باب ۱۷ آیت ۹ تا ۱۱) ’’اور وہ فرزند نرینہ جس کا ختنہ نہیں ہوا وہی شخص اپنے لوگوں میں سے کٹ جائے کہ اس نے میرا عہد توڑا‘‘ (آیت ۱۴) ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کی اولاد کی نسبت جو عہد کیا گیا تھا وہ مشروط تھا اور اس کی ظاہری علامت ختنہ تھا اور صاف کہہ دیا گیا تھا کہ اولاد میں سے جو اس عہد کی پابندی نہ کریں گے خدا تعالیٰ کا عہد بھی ان سے کوئی نہ رہے گا اور ان کو وہ انعامات نہ ملیں گے جن کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے وعدہ کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ اس وعدہ میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ یہ اس عہد کا نشان ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندہ کے درمیان کیا