تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 522

اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ زائد کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ صرف اپنی نعمت نہیں جتائی بلکہ اس سے زائد مضمون کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عربی زبان کے قواعد کے مطابق جب حروف یا الفاظ میں زیادتی کی جائے تو وہ جدید یا زائد مضمون پیدا کرنے کے لئے ہوتی ہے پس اس آیت میں اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ کے الفاظ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ وہ نعمت ہے جو تمہاری قوم کے لئے خاص ہے۔اللہ تعالیٰ کی دو قسم کی نعمتیں اللہ تعالیٰ کی دو قسم کی نعمتیں ہوتی ہیں ایک وہ جو عام ہیں مومن و کافر کو مل رہی ہیں جیسے ہوا، پانی، آگ ،خوراک وغیرہ لیکن ایک اس کی نعمتیں وہ ہیں جو خاص شرائط پورا کرنے والے مقربوں کو ملتی ہیں یا خاص وعدوں کے مطابق نازل ہوتی ہیں اگر تو عام نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے جو خاص وعدہ کے مطابق نہیں ملتیں بلکہ ہر کافر و مومن پر نازل ہوتی ہیں تو خالی اُذْکُرُوْا نِعَمِیْ کہنا کافی تھا لیکن اس جگہ اوّل تو نِعْمَتِیْ کا لفظ مفرد رکھا گیا ہے جس سے خاص نعمت مراد ہے اور پھر اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ کے الفاظ بڑھائے گئے ہیں اور بتایا ہے کہ وہ نعمت تم پر خاص تھی دوسرے لوگ دنیا کے اس میں شامل نہ تھے۔بنی اسرائیل کو ملنے والی نعمت کیا تھی ؟ یہ نعمت کیا ہے؟ اسے ہم قرآن کریم سے ہی دیکھتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ(المآ ئدۃ :۲۱) یعنی یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم! اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو جبکہ اس نے تم میں بہت سے انبیاء مبعوث فرمائے اور تم کو بادشاہ بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا جو اور کسی کو جہانو ںمیں سے نہ دیا تھا۔بنی اسرائیل پر اتمام نعمت کرنے سے مراد ان کو بادشاہ بنانا اور ان میں انبیاء کا مبعوث کرنا تھا یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول ہے جو انہوں نے اس وقت بنی اسرائیل سے کہا تھا جب وہ ارضِ مقدسہ کے قریب پہنچ گئی تھی اور اس میں داخل ہونے کا اسے حکم دیا گیا تھا۔ظاہر ہے کہ اس وقت تک موسیٰ علیہ السلام کی قوم بادشاہ نہ بنی تھی بلکہ ابھی تک جنگلوں میں سرگرداں پھر رہی تھی۔اس سے پہلے بھی کسی زمانہ میں وہ بادشاہ نہ بنی تھی کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حضرت یوسف ؑ تک ان میں سے کوئی بادشاہ نہ ہوا تھا اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد تو وہ مصر میں غلام ہو کر رہی تھی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اسے اس غلامی سے نکالا گیا لیکن بادشاہت اب تک اسے نصیب نہ ہوئی تھی صرف اس سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ارضِ مقدسہ میں اسے بادشاہت دی جائے گی اور جیسا کہ اگلی آیت میں بتایا گیا ہے اس قول تک وہ ارضِ مقدسہ میں داخل نہ ہوئی تھی پس جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا سے یہ مراد