تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 521
اس عبارت سے ظاہر ہے کہ زکریاہ نے ایک اسرائیلی بادشاہ کی خبر دی ہے جو یروشلم کو پھر اس کی سابق شوکت پر لائے گا پس اس سے مراد اسرائیلیوں کا بادشاہ ہے نہ یہود کا بادشاہ چنانچہ یوحنا باب۱ آیت ۴۹ میں لکھا ہے ’’تو اسرائیل کا بادشاہ ہے‘‘ اور یہی درست ہے کیونکہ موسوی سلسلہ کے ترقی کے وعدے بنی اسرائیل سے مخصوص تھے نہ کہ ہر یہودی مذہب کو قبول کرنے والے سے۔اسی طرح حضرت مسیح کاخطاب صرف بنی اسرائیل سے تھا چنانچہ لکھا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے جب اپنے مریدوں کو تبلیغ کے لئے بھجوایا تو کہا کہ ’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا‘‘ (متی باب ۱۰ آیت ۵) یاد رہے کہ سامری مخلوط نسل کے آدمی تھے اور اکثر ان میں سے یہودی باپوں کی نسل میں سے تھے اور تورات کو مانتے تھے اور اسی پر ان کا عمل تھا۔جب سامریوں تک سے علیحدہ رہنے کا حکم مسیح نے دیا تو جو بالکل غیر قومیں ہیں ان کا کیا ذکر ہے۔یہ غلطی مسیحیوں کو ایسی چمٹی ہے کہ آج تک وہ اس غلطی میں مبتلا ہیں چنانچہ آج جرمنی اور بعض دوسرے یورپین ممالک میں اسرائیلی نسل کے خلاف جو جوش پیدا ہے اس میں یہی کہا جاتا ہے کہ ’’یہودیوں‘‘ کو ملک سے نکال دو اور اس سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ جو موسوی مذہب کے تابع ہیں ان کو ملک سے نکال دو بلکہ یہ مخالفت ان لوگوں کے خلاف بھی ہے جو نصرانی مذہب اختیار کر چکے ہیں حالانکہ وہ بنی اسرائیل تو بیشک ہیں مگر یہودی کسی صورت میں بھی نہیں کیونکہ اپنا مذہب تبدیل کر چکے ہیں جرمنی میں تو یہ جوش اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ جن لوگوں کی رگوں میں کسی اسرائیلی عورت کا خون بھی ہے اسے بھی ملک کا دشمن قرار دیا جاتا ہے لیکن کہا یہی جاتا ہے کہ یہ یہودی ہیں یا یہودی خون ان کے اندر ہے حالانکہ نہ وہ یہودی مذہب کے پابند ہیں اور نہ ان مائوں کا مذہب یہودی تھا جن کی وہ اولاد ہیں بلکہ ان کی مائیں بھی مسیحی تھیں اور ان کی نسل بھی مسیحی ہے۔غرض اس علمی زمانہ میں بھی کہ جس کی علمی ترقی پر یورپ کو اس قدر ناز ہے اسرائیلی اور یہودی کے فرق کو بالکل نہیں سمجھا جاتا لیکن قرآن کریم نے تیرہ سو سال پہلے اس فرق کو تسلیم کیا ہے اور جہاں جہاں نسلی ترقی کے وعدوں کا ذکر ہے یا نبیوں کے خطاب کا ذکر ہے وہاں بنی اسرائیل کا لفظ استعمال کیا ہے اور جہاں صرف مذہب کا ذکر ہے وہاں یہودی کا لفظ استعمال کیا ہے۔چنانچہ آیات زیر تفسیر میں چونکہ ان وعدوں کی طرف اشارہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے یا ان وعدوں کا ذکر ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے ابراہیمی نسل سے تھے اس لئے ان آیات میں اور ان کے بعد کی آیات میں ہر جگہ لِبَنِٓیْ اِسْرَآئِیْلَ کہا گیا ہے ایک جگہ بھی یہودی کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔اُذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ۔اُذْکُرُوْا نِعْمَتِیْ نہیں فرمایا بلکہ اس کے بعد