تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 495
مُسْتَقَرٌّ۔اَلْمُسْتَقَرُّ اِسْتَقَرَّ سے ظرف ہے اور اِسْتَقَرَّ بِالْمَکَانِ کے معنے ہیں ثَبَتَ وَ سَکَنَ کسی جگہ میں ٹھہرا۔رہائش اختیار کی اور اَلْمُسْتَقَرُّ کے معنے ہیں مَوْضِعُ الْاِسْتِقْرَارِ۔قرار گاہ۔جائے رہائش۔(اقرب) مَتَاعٌ۔کُلُّ مَایُنْتَفَعُ بِہٖ مِنَ الْـحَوَائِـجِ کَالطَّعَامِ وَالْبَزِّ وَ اَثَاثِ الْبَیْتِ وَالْاَدَوَاتِ وَالسِّلَعِ وہ تمام اشیاء جن سے ضرورت کے وقت فائدہ اٹھایا جاتا ہے مَتَاعٌ کہلاتی ہیں۔جیسے خوراک، پوشاک، گھر کا سامان، فروخت کی چیزیں وغیرہ وَقِیْلَ مَایُنْتَفَعُ بِہٖ مِنْ عُرُوْضِ الدُّنْیَا قَلِیْلِہَا وَکَثِیْرِھَا مَاسِوَی الْفِضَّۃِ وَالذَّھَبِ۔اور بعض کے نزدیک دنیا کا سامان جس سے نفع اُٹھایا جاتا ہے وہ متاع ہے خواہ وہ تھوڑا ہو یا بہت سوائے سونے اور چاندی کے وَعُرْفًا کُلُّ مَایَلْبِسُہُ النَّاسُ وَیَبْسُطُہٗ اور عرف عام میں متاع ان کپڑوں کو کہتے ہیں جو انسان پہنتا ہے یا فرش وغیرہ جو بچھائے جاتے ہیں وَفِی الْکُلّیَّاتِ اَلْمَتَاعُ وَالْمُتْعَۃُ مَایُنْتَفَعُ بِہٖ اِنْتِفَاعًا قَلِیْلًا غَیْرَ بَاقٍ بَلْ یَنْقَضِیْ عَنْ قَرِیْبٍ کلیاتِ اَبی البقا میں ہے کہ مَتَاع اور مُتْعَہ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے قلیل فائدہ حاصل کیا جاتا ہو۔اور جس کا فائدہ مستقل نہ ہو بلکہ جلدی ختم ہو جائے۔وَاَصْلُ الْمَتَاعِ مَایُتَبَلَّغُ بِہٖ مِنَ الزَّادِ۔متاع اصل میں وہ زاد ہے جس کے ذریعہ سے منزلِ مقصود تک پہنچا جائے وَیَأْتِی الْمَتَاعُ اِسْـمًا بِمَعْنَی التَّمْتِیْعِ اور یہ لفظ اسم و مصدر کے طور پر تمتیع کے معنے میں بھی استعمال ہوتا ہے یعنی سامانِ دنیا۔(اقرب) حِیْن۔اَلْحِیْنُ کے معنے ہیں وَقْتٌ مُبْہَمٌ یَصْلَحُ لِجَمِیْعِ الْاَزْمَانِ طَالَ اَوْقَصُرَ مطلق وقت خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔وَقِیْلَ اَوِ الدَّ ھْرُ بعض محققینِ ُلغت نے اس کے معنے ’’ایک لمبے زمانہ‘‘ کے کئے ہیں۔نیز اس کے ایک معنی اَلْمُدَّۃُ کے ہیں یعنی کچھ وقت۔(اقرب) تفسیر۔فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا کی ضمیر جنت وشجرہ دونوں کی طرف جا سکتی ہے عَنْھَا میں ھَاکی ضمیر جنت کی طرف بھی جا سکتی ہے اور شجرہ کی طرف بھی۔جنت کی طرف ضمیر پھیرنے کی صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ شیطان نے آدم کو جنت سے الگ کر دیا یا یہ کہ شیطان کے دھوکے کی وجہ سے جنت کی حالت میں فرق آ گیا اور وہ ایک وقت کے لئے تکلیف کا مقام بن گئی۔شجرہ کی طرف ضمیر پھرنے کی صورت میں عَنْ کے معنے سبب کے ہوں گے او رمطلب یہ ہو گا کہ اس درخت کو ذریعہ بنا کر آدم کو اس کے مقام سے پھسلا دیا لیکن جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا گیا ہے اَزلَّ کے لفظ میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ جس شخص سے وہ فعل ہوا اس کا اس میں ارادہ نہ تھا پس معنے یہ ہوں گے کہ اس درخت کے ذریعہ سے شیطان نے آدم کا قدم پھسلا دیا لیکن آدم کا اس میں ارادہ شامل نہ تھا سب کچھ دھوکے اور فریب سے ہوا۔