تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 494

فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ۰۰۳۷ (انہیں) کہا (کہ یہاں سے) نکل جاؤ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہیں۔اور(یاد رکھو کہ) تمہارے لئے ایک (مقرر)وقت تک اسی زمین میں جائےرہائش اور سامان معیشت (مقدر )ہے۔حَل لُغَات۔اَ زَلَّھُمَا۔اَزَلَّہٗ کے معنے ہیں اَ زْلَقَہٗ اس کو اس کے مقام سے ہٹا دیا حَمَلَہٗ عَلَی الزَّلَّۃِ اس کو لغزش پر آمادہ کیا۔(اقرب) مفردات میں ہے۔اَلزَّلَّۃُ فِی الْاَصْلِ اِسْتِرْسَالُ الرِّجْلِ مِنْ غَیْرِ قَصْدٍ کہ اصل وضع لغت کے لحاظ سے زَلَّۃٌ کے معنے ہیں پائوں کا بغیر قصد کے پھسل جانا۔وَقِیْلَ لِلذَّنْبِ مِنْ غَیْرِ قَصْدٍ زَلَّۃٌ تَشْبِیْھًا بِزَلَّۃِ الرِّجْلِ بغیر ارادہ کے کسی غلطی اور قصور کے ہو جانے کو بھی زَلَّۃ سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ جس طرح بغیر ارادہ کے پائوں پھسل جاتا ہے اسی طرح بعض اوقات بعض غلطیاں بھی بغیر ارادہ کے واقع ہو جاتی ہیں گویا پائوں کا بغیر ارادہ کے پھسلنا اور غلطی کا بغیر ارادہ کے وقوع پذیر ہونا دونوں آپس میں مشابہ ہیں۔(مفردات) لسان میں ہے اَ زَلَّہٗ اَیْ حَمَلَہٗ عَلَی الزَّلَلِ اس کو قصور اور خطا کرنے پر آمادہ کیا۔(لسان) اَلشَّیْطٰنُ۔اَلشَّیْطٰنُ کی تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۱۵۔عَنْھَا۔عَنْ حرفِ جا رہے اور یہ دس معانی ادا کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جن میں سے ایک تعلیل کے ہیں (مغنی) یہی معنی ادا کرنے کے لئے آیت فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا میں عَنْ استعمال ہوا ہے یعنی حَمَلَہُمَا عَلَی الزَّلَّۃِ بِسَبَبِھَا اَی بِسَبَبِ الشَّجَرَۃِ یعنی اس درخت کے ذریعہ سے ان دونوں کو ان کے مقام سے ہٹا دیا۔اِھْبِطُوْا۔اِھْبِطُوْا امر مخاطب جمع کا صیغہ ہے اور ھَبَطَہٗ (یَھْبُطُ ھَبْطًا) مِنَ الْجَبَلِ کے معنے ہیں اَ نْزَلَہٗ اس کو پہاڑ سے اُتارا۔ھَبَطَ بَلَدًا کَذَا: دَخَلَہٗ کسی شہر میں داخل ہوا (یہ متعدّی بھی استعمال ہوتا ہے چنانچہ ھَبَطَہٗ بَلَدًا کَذَا کے معنے ہوں گے اَدْخَلَہُ اس کو فلاں شہر میں داخل کیا) ھَبَطَ السُّوْقَ۔اَتَاھَا بازار میں آیا۔ھَبَطَ فُـلَانٌ مِنَ الْجَبَلِ (یَھْبُطُ وَ یَھْبِطُ ھُبُوْطًا) نَزَلَ پہاڑ سے اُترا۔ھَبَطَ الْوَادِیَ۔نَزَلَہٗ وادی میں اُترا۔ھَبَطَ مِنْ مَوْضِعٍ اِلٰی مَوْضِعٍ آخَرَ۔اِنْتَقَلَ ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا گیا (اقرب) پس اِھْبِطُوْاکے معنے ہوں گے (۱) اپنی جائے قیام کو چھوڑ کر کسی اور جگہ قیام پذیر ہو جائو (۲) نکل جائو۔اَ لْاَرْض اَ لْاَرْض کی تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۱۲۔