تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 487
اور نہ دُھوپ کی تکلیف اُٹھائے گا اور یہ بھی حکم دیا کہ وہ اس میں جہاں سے چاہیں بافراغت کھائیں۔حضرت آدم علیہ السلام کی جنت جنت سے مراد بعض نے کہا ہے کہ وہی جنت ہے جس میں انسان بعدَ الموَت جائے گا اور بعض مفسرّین نے اسے اسی زمین کا کوئی ٹکڑا قرار دیا ہے۔بائبل میں ہے’’ اور خداوند خدا نے عدن میں پورب کی طرف ایک باغ لگایا اور آدم کوجسے اس نے بنایا تھا وہاں رکھا‘‘ (پیدائش باب ۲ آیت ۸) اس کے بعد آیت ۱۴ میں یہ ذکر ہے کہ اس باغ کو دجلہ اور فرات سیراب کرتے ہیں گویا بائبل کا یہ بیان استعارہ اور حقیقت اور صحیح اور غلط سے مخلوط ہے لیکن دَجلہ اور فرُات کے پاس کے علاقہ کی اس سے تعیین ہو جاتی ہے چونکہ حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کے واقعات بھی اسی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور حضرت ابراہیم ؑ علیہ السلام کا مولد بھی اُ وْر ہے جو عراق میں ہے اور جدید تحقیق سے بھی اُ وْراور اس کے گرد کا علاقہ کھودنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ملک نہایت قدیم تمدّن کا گہوارہ رہا ہے پس ان حالات سے قرینِ قیاس یہی ہے کہ آدم کا َمولد عراق کا علاقہ ہی تھا اور جس جنت کا ان کے متعلق ذکر آتا ہے وہ بھی اسی علاقہ کا کوئی مقام تھا جسے مقام کے آرام دِہ ہونے اور اس اچھے نظام کی وجہ سے جو آدم نے قائم کیا جنت کہا گیا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کی جنت کی تعیین جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے آثار قدیمہ کی تازہ کھدائیوں سے یہ علاقہ ایک نہایت قدیم تمدن کا گہوارہ ثابت ہوتا ہے چنانچہ اُوْر جو بائبل کے بیان کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وطن تھا اور جو دجلہ اور فرات کے ملنے کی جگہ کے قریب واقع ہے اس کی کھدائی جنگِ عظیم کے بعد اوّل اوّل مسٹرہال نے اور ان کے بعد مسٹر وُدلے نے کی ہے ان دونوں کی کھدائیوں کے نتیجہ میں اس شہر کے دبے ہوئے جو آثار ملے ہیں ان کا زمانہ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ سے ۳۵۰۰ سال پہلے معلوم ہوتا ہے (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Ur) بلکہ بعد کی تحقیق سے یہ آثار اس سے بھی بہت پہلے کے تمدن کے معلوم ہوتے ہیں (ایضاً) پس جبکہ ہم ایک طرف مغربی عرب میں کعبہ جیسے قدیم معبد کو دیکھتے ہیں دوسری طرف مشرقی طرف اُوْر کی قدیم ترین تہذیب کے آثار ہمیں ملتے ہیں او رمعلومہ تاریخ کے زبردست تغیرّات کا اس علاقہ کو مرکز پاتے ہیں تو یہ نتیجہ نکالنا بعیداز قیاس نہیں معلوم ہوتا کہ آدم کا مولد یا بشر کی تمدنی ترقی کا مبدء یہی علاقہ تھا۔حضرت آدم علیہ السلام کی جنت بعدَ الموت ملنے والی جنت نہ ہونے کے دلائل یہ خیال کہ آدمؑ کو اس جنت میں رکھا گیا تھاجس میں نیک انسان بعد الموت جائیں گے باِلبداہت باطل ہے۔اوّل تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً (البقرۃ:۳۱) میں زمین میں خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں اور یہ امر