تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 486
کے بعد جملہ کا آنا ضروری ہے۔بعض اوقات اس کے ساتھ مَا لگتا ہے یعنی حَیْثُ کی بجائے حَیثُمَا کہہ دیتے ہیں اس وقت اس کے معنی میں شرط کا مفہوم آ جاتا ہے اس لئے یہ اپنے بعد دو جملوں کو جزم دیتا ہے جیسے کہ ایک شاعر کا شعر ہے ؎ حَیْثُمَا تَسْتَقِمْ یُقَدِّرْ لَکَ اللّٰہُ نَجَاحًا فِیْ غَابِرِ الْاَ زْمَانٖ کبھی یہ کسی فعل کے وقوع کا زمانہ بتانے کے لئے آتا ہے چنانچہ اوپر کا شعر بھی انہی معنو ںمیں استعمال ہوا ہے (اقرب) پس حَیْثُ شِئْتُمَا کے معنی ہوں گے جہاں سے چاہو۔(۲) جب چاہو۔اَلظّٰلِمِیْنَ۔اَلظّٰلِمِیْنَ ظَلَمَ سے اسم فاعل ظَالِمٌ آتا ہے اور اَلظّٰلِمُوْنَ اور اَلظَّالِمِیْنَ اس کی جمع ہیں ظَلَمَ فُـلَانٌ ظُلْمًا وَظَلْمًا کے معنے ہیں وَضَعَ الشَّیْ ءَ فِیْ غَیْرِ مَوْضِعِہٖ کسی چیز کا بے محل اور بے موقع استعمال کیا نیز ظَلَمَ فُـلَانًا کے معنے ہیں فَعَلَ لَہُ الظُّلْمَ اس پر ظلم کیا۔ظَلَمَ فُـلَانٌ حَقَّہٗ۔نَقَصَہٗ اِیَّاہُ اُس کو اُس کا حق پورا نہ دیا (اقرب) نیز حد سے بڑھ جانے اور دوسرے کی ملکیت پر دست درازی کرنے کو بھی ظلم کہتے ہیں۔(اقرب) مفردات میں ہے کہ ظلم کی تین قسمیں ہیں (۱) ظُلْمٌ بَیْنَ الْاِنْسَانِ وَ بَیْنَ اللّٰہِ تَعَالٰی۔اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ظلم۔یعنی جو حقوق اللہ تعالیٰ کے بندے کے ذمہ ہیں وہ اس کو دینے کی بجائے دوسروں کو دیئے جائیں وَ اَعْظَمُہُ الْکُفْرُ وَالشِّرْکُ وَ النِّفَاقُ اوران معنوں کے لحاظ سے سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کیا جائے اس کے ساتھ شریک قرار دیا جائے اور نفاق سے کام لیا جائے حالانکہ مناسب تو یہ ہے کہ اللہ کے احکام کو مانا جائے اور اس کی توحید کا اقرار کیا جائے۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ (لقمان:۱۴)کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے (۲) ظُلْمٌ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ النَّاسِ لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرنا۔(۳) ظَلْمٌ بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ نَفْسِہٖ انسان کا اپنے نفس پر ظلم کرنا چنانچہ آیت فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ(فاطر:۳۳)میں یہی ظلم مراد ہے (مفردات) پس ظالم کے معنے ہوں گے (۱) بے محل و بے موقع کام کرنے والا۔(۲) کسی کے حق کو کم دینے والا۔(۳) حد سے بڑھ جانے اور دوسرے کی ملکیت پر دست درازی کرنے والا۔(۴) شرک کرنے والا۔(۵) ظلم کرنے والا۔تفسیر۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ آدم اور اس کی بیوی یا آدم اور اس کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے کا حکم دیا جس کی تشریح دوسری جگہ یہ کی گئی ہے کہ وہ اس میں نہ بھوکا رہے گا نہ پیاسا اور نہ ننگا رہے گا