تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 488

خلافِ عقل ہے کہ آدم علیہ السلام کو انتظام تو دنیا کا سپرد کیا گیا اوررکھا انہیں آسمان پر گیا۔دوسرے اس جنت کی نسبت جو بعدالموت ملنے والی ہے خود حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ سورہ حجر میں فرماتا ہے لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ (الحجر:۴۹) یعنی جنت اُخروی میں نہ تو انسانوں کو کسی قسم کی تکان ہو گی اور نہ وہ اُس سے نکالے جائیںگے لیکن آدم علیہ السلام کو جس جنت میں رکھا گیا وہ اس سے نکالے گئے۔پس معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کی جنت ارضی تھی آسمانی نہ تھی۔تیسرے یہ کہ آدم علیہ السلام کی جنت میں شیطان کا داخل ہونا ثابت ہے بلکہ اس کی ذرّیت کا بھی۔پس بفرضِ محال آدم کا جنت سماوی میں رکھنا اگر تسلیم بھی کر لیا جائے تو یہ خلافِ عقل ہے کہ آدم کے ساتھ شیطان اور اس کی ذریت کو بھی جنت میں رکھ دیا گیا۔اس آیت سے اس امر کا بھی استدلال ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام پہلے کسی اور جگہ رہتے تھے پھر جب ان پر الہام الٰہی نازل ہوا تو اپنی بیوی یا ساتھیوں سمیت اس مقام میں جا بسے جسے جنت کہا گیا ہے کیونکہ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ اے آدم! تو اور تیرا زوج جنت میں ہی بسو۔پس معلوم ہوا کہ وہ پہلے کسی دوسری جگہ رہتے تھے۔رَغَدًاکی تشریح جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا گیا ہے یہ ہے کہ ضروریاتِ زندگی سہولت کے ساتھ اور کثرت کے ساتھ مل جائیں۔اس میں تمدن کی خوبی بتائی گئی ہے۔تمدن ہی ہے جو انسان کے لئے بافراغت سامانِ زندگی مہیا کرتا ہے بغیر تمدن کے کھانے پینے کی اشیاء کا نہ تو خزانہ رکھا جا سکتا ہے اور نہ کثرت سے ان اشیاء کی پیداوار کی جا سکتی ہے۔حیوانی زندگی میں ضروری اشیاء کے پیدا کرنے کی طرف توجہ نہیں کی جا سکتی اور نہ ان کا ذخیرہ رکھا جا سکتا ہے اور کمی کے وقت انسان تکلیف اُٹھاتا ہے پس ان الفاظ میں تمدّن کی خوبی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب تم مل کر رہو گے تو ضروریاتِ زندگی کو کثرت سے پیدا کر سکو گے اور ضرورت کے موقع کے لئے ان کا ذخیرہ رکھ سکو گے اور یہی وہ ارضی جنت ہے جس کی بنیاد تمدّن کے ذریعہ سے آدم علیہ السلام کے زمانہ سے رکھی گئی۔جو قومیں اس تمدّن کی نگہداشت کرتی ہیں ان کے تمام افراد آرام سے رہتے ہیں۔اسلام نے اپنے ابتدائی ایام میں اس تعلیم کے مطابق عمل کیا اور مسلمانوں کا بچہ بچہ بھوک اور پیاس اور تنگی کی زندگی سے محفوظ ہو گیا۔بظاہر یہ ایک دنیاوی حکم معلوم ہوتا ہے لیکن حق یہ ہے کہ یہ طریقِ زندگی انسان کو گناہ سے بچانے والا ہے۔لوُٹ کھسوُٹ اور دھوکے فریب کا بڑا باعث غربت اور بے سرو سامانی ہوتے ہیں۔جو قوم اپنے تمام افراد کے کھانے پینے اور پہننے کا سامان مہیا کر دیتی ہے وہ اس کو گناہ میں پڑنے سے بچا لیتی ہے اور اس بڑے سبب کو جو ظلم اور گناہ کی طرف کھینچتا ہے دُور کر دیتی ہے۔پس گو بظاہریہ کام دنیاوی اور سیاسی نظر آتا ہے لیکن حقیقتاً خالص دینی انتظام ہے اور