تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 475

کے ماتحت سجدہ کر دیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ابلیس کون تھا ؟اس کا تفصیلی جواب آگے آئے گا مگر یہ امر سمجھ لینا چاہیے کہ بہرحال وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ (الکہف :۵۱) وہ جنوں میں سے تھا پس اپنی جبلت کے مطابق اس نے فرمانبرداری سے انکار کیا۔بعض کہتے ہیں کہ اگر ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا تو اِلَّا کا لفظ کیوں یہاں استعمال ہوا ہے کیونکہ اِلَّا کے معنے سوائے کے ہیں۔اور سوائے کے لفظ سے تو انہی اشیاء کا استثناء کیا جاتا ہے جو اس سے پہلے کی مذکورہ چیزوں میں سے ہوں مثلاً جب یہ کہیں کہ سب دو ست آ گئے سوائے زید کے تو اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ زید ہمارے دوستوں میں سے ہے پس اس آیت میں بھی سوائے ابلیس کے الفاظ کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ ابلیس بھی فرشتوںمیں سے تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اِلَّا کے معنے سوائے کے ہیں اور بالعموم اِلَّاکے بعد جس وجود کا ذکر ہو وہ اِلَّاکے پہلے کے بیان کردہ گروہ کی جنس میں تو شریک ہوتا ہے مگر اس خاص فعل میں جس کا پہلے ذکر ہوا ہو اس سے مختلف ہوتا ہے جیسا کہ اوپر کی مثال میں ہے کہ ’’سوائے‘‘ سے پہلے جن دوستوں کا ذکر ہے ان میں تو زید شامل ہے لیکن آنے کے فعل میں ان کا شریک نہیں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اِلَّا کے بعد مذکور وجود اِلَّاسے پہلے کے مذکورہ گروہ سے الگ ہوتا ہے اور جب ایسا ہو تو عربی میں اس اِلَّا کو منقطع کہتے ہیں یعنی اس کے بعد جس وجود کا ذکر ہے وہ نہ صرف یہ کہ پہلے بیان کردہ فعل میں ان کا شریک نہیں بلکہ اس فعل کے مرتکب لوگوں کا بھی جزو نہیں۔اس کی مثال میں علماء نحو کا یہ مشہور فقرہ ہے کہ جَاءَ الْقَوْمُ اِلَّاحِمَارَ ھُمْ یعنی قوم تو آگئی مگر ان کا گدھا نہیں آیا۔اس استعمال کے موقع پر اُردو زبان میں ترجمہ کرتے ہوئے سوائے کا لفظ استعمال نہ کیا جائے گا بلکہ ’’مگر‘‘ کا لفظ استعمال کیا جائے گا کیونکہ اُردو زبان میں ’’سوائے‘‘ کا لفظ وہی معنے دیتا ہے جن میں اِلَّاکے بعد کا مذکور اس سے پہلے کے مذکور کا حصہ ہو اور وہ دوسرے معنے اِلَّا کے جو اوپر بیان ہوئے ہیں سوائے کے لفظ سے ادا نہیں ہوتے۔ان دوسرے معنوں کے ادا کرنے کے لئے ’’مگر‘‘ کا لفظ زیادہ مناسب اور ٹھیک ہوتا ہے۔خلاصہ یہ کہ اس جگہ اِلَّا منقطع ہے اور اس کے معنے ’’سوائے‘‘ کے نہیں بلکہ ’’مگر‘‘ کے ہیں۔ان معنوں پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر ابلیس ملائکہ میں سے نہیں تو پھر ملائکہ کو سجدہ کا حکم دینے اور ان کے فرمانبرداری کرنے کے ذکر میںابلیس کا ذکر کیو ںکیا گیا ہے۔جب اسے حکم ہی نہ دیا گیا تھا تو پھر اس نے سجدہ کرنا ہی کیوں تھا؟ مگر یہ اعتراض ملائکہ کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔پہلی آیات میں بتایا جا چکا ہے کہ ملائکہ اس نظام عالم کے مدبرّ ہیں