تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 474
کے سبب سے خدا تعالیٰ کو سجدہ کرو کہ اس نے ایک ایسے اچھے نظام کوقائم کیا۔گویا جب اللہ تعالیٰ نے دلائل اور مشاہدات سے فرشتوں پر ثابت کر دیا کہ آدم کی خلافت اللہ تعالیٰ کے پُر حکمت افعال میں سے ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا ایک نیا اور کامل ظہور وابستہ ہے تو اس نے ملائکہ کو کہا کہ اس خوشی میں اب تم میرے حضور سجداتِ شکر بجا لائو۔یہ حکم ویسا ہی ہے جیسے خدا پرست لوگوں کو جب کوئی خدا تعالیٰ کی قدرت نظر آتی ہے تو وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ آدم کو سجدہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ خلافت ِ آدم کی خوشی میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور آیت کے یہ معنے ہیں کہ آدم کی وجہ سے یعنی اس کے مقام خلافت پر فائز ہونے کی وجہ سے سجدہ کرو۔سجدہ کسے کرو اس کے اظہار کی ضرورت نہ تھی کیونکہ سجدہ سوا خدا تعالیٰ کے کسی کو جائز ہی نہیں۔ان معنوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے مومن کو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کوئی فضل خدا تعالیٰ کا نازل ہو اسے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر جانا چاہیے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے مزید فضل نازل ہوتے ہیں لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ انعامات کے حصول پر بجائے خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کے مغرور ہو جاتے ہیں اور اپنی ترقیوں کو اپنے ہنر اور اپنے کمال کی طرف منسوب کرنے لگ جاتے ہیں۔فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کے حکم سے مراد آدم کی فرمانبرداری کا حکم (۲) دوسرے معنے سجدہ کرنے کے یہ بھی ہو سکتے ہیں اور ہیں کہ آدم کی فرمانبرداری اور اطاعت کرو جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے سجدہ کے معنے علاوہ جسمانی سجدہ کے فرمانبرداری اور اطاعت کے بھی ہیں۔چنانچہ راغب لکھتے ہیں اَلسُّجُوْدُ۔اَلتَّذَلُّلُ سجدہ کے معنے فرمانبرداری اور عاجزی کے بھی ہیں حَلِّ لُغَات میں راغب کایہ قول لکھا جا چکا ہے کہ بعض اَئمہ نے اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ کے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ اُمِرُوْا بالتَّذَلُّلِ لَہٗ وَالْقِیَامِ بِمَصَالِحِہٖ وَ مَصَالِحِ اَوْلَادِہٖ یعنی ملائکہ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ آدم کی فرمانبرداری کریں اور اس کی مصلحتوں اور اس کے ارادوں اور اس کی اولاد کے ارادوں اور خواہشوں کے پورا کرنے میں لگ جائیں۔ان معنوں کی رُو سے آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو خلعتِ خلافت بخشا تو ملائکہ کو حکم دیا کہ اب یہ دنیا پر ہماری مرضی ظاہر کرنے والا ہے تم کو بھی چاہیے کہ جو کام یہ کرے اس کی امداد کرو اور اس کی تائید میں اس نظام کو لگا دو جو تمہارے ماتحت ہے اور جس کی تم ابتدائی کڑیاں ہو چنانچہ فرماتا ہے فَسَجَدُوْا اس پر وہ سب کے سب آدم کی تائید میں لگ گئے اور اس کے ارادوں کو پورا کرنے کی کوششوں میں منہمک ہو گئے۔حصہ آیت اِلَّاۤ اِبْلِيْسَمیںاِلَّا استثناء منقطع کے لئے ہے اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ۔یعنی ملائکہ نے تو حکمِ الٰہی