تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 476
چنانچہ قرآن کریم میں انہیں مختلف امور کی پہلی کڑی اور سببِ اُولیٰ بتایا گیا ہے اور سورۃ نازعات میں ان کی نسبت آتا ہے فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا (النازعات:۶) ہم شہادت کے طور پر اُن ارواح کو پیش کرتے ہیں جو کارخانہ عالم کو چلاتی ہیں پس جب ملائکہ کارخانہ عالم کو چلانے والے اور پہلی علّت ہیں تو جو انہیں دیا جائےگا وہ ان کے لئے ہی نہ ہو گا بلکہ ان افراد کے لئے بھی ہو گا جو ان کے تابع ہیں چنانچہ اس حدیث میں جو پہلے بیان ہو چکی ہے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کی قبولیت دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے تو جبریل سے کہتا ہے اور جبریل دوسرے ملائکہ سے۔اور پھر ملائکہ سے یہ بات عالم سفلی میں اُتر آتی ہے اور اس شخص کی قبولیت انسانوں میں پھیل جاتی ہے۔(بخاری کتاب الادب باب الْمِقَةِ من اللہ تعالٰی) ملائکہ کو سجدہ کا حکم دینے میں ابلیس کا ذکر حقیقت یہ ہے کہ کارخانۂ عالم ایک زنجیر کی طرح ہے اور اس کی پہلی کڑی ملائکہ ہیں اور جو زنجیر کی پہلی کڑی کو ہلائے اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس کے ہلنے سے بعد کی کڑیاں بھی حرکت کریں۔اسی طرح جب اللہ تعالیٰ ملائکہ کو کوئی حکم دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عالم دنیاوی میں اس قسم کی تحریک شروع ہو جائے۔جب ملائکہ کو آدم کی فرمانبرداری کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا تو اس کا بھی یہی مطلب تھا۔ملائکہ توپہلے مخاطب تھے لیکن حکم سب دنیا کے لئے تھا پس جس نے اس حکم کا انکار کیا نافرمان ٹھہرا۔چنانچہ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ اس کی نسبت فرماتا ہے کہ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ (الاعراف :۱۳) جب میں نے تجھے حکم دیا تھا تو تجھے سجدہ کرنے سے کس امر نے روکا؟ اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ کے حکم میں سب کے لئے حکم شامل تھا اور ابلیس بھی اس کا ویسا ہی پابند تھا جیسا کہ اور مخلوق۔پس ابلیس کی نافرمانی کا ذکر یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ ملائکہ میں سے تھا بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس نے ملائکہ کی تحریک کا انکار کیا اور خدا تعالیٰ کے حکم کو جسے فرشتوں نے آگے چلایا قبول نہ کیا۔ملائکہ کی تحریک کے انکار کے چار سبب اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١ٞۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ۔اس جملہ میں ملائکہ کی تحریک کے انکارکے چار اسباب بیان فرمائے ہیں (۱) اول اِبَاء۔اِبَاْء کے معنے جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتائے جا چکے ہیں ایسی چیز کے ردّ کرنے کے ہیں جسے انسان ناقص اور اپنے مناسب حال نہ سمجھتے ہوئے ردّ کر دے۔پس اَبٰی کے معنے ہوئے کہ ابلیس نے اس تحریک کو اپنے مناسب حال نہ سمجھا اور ناقص خیال کیا اور اس وجہ سے اِسے نفرت کرتے ہوئے ٹھکرا دیا۔سچائیوں کے انکار کا یہ ایک بہت بڑا سبب ہوتا ہے۔لوگ سچائی کو اس نظر سے نہیں دیکھتے کہ ان سے دنیا کو کیا فائدہ پہنچے گا بلکہ اس نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ ان کے قریب کے مصالح پر ان کا کیا اثر پڑے گا اور جب ان کے قریب کے مصالح پر برُا اثر پڑتا ہے تو وہ اپنے انجام کو اور دنیا کے فوائد کو بھلا دیتے ہیں اور سچائی کی مخالفت