تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 459
معنوں اور ان مجازی معنوں میں فرق کیا جاتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو کل اسماء سکھانے کا مطلب جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے آیت زیر تفسیر میں بھی کُلَّہَا سے مراد نہ تمام صفاتِ الٰہیّہ مراد ہیں اور نہ انسان سے تعلق رکھنے والی سب صفات یا ان کا کامل علم مراد ہے کیونکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ علمِ دین جو صفاتِ الہٰیہ سے تعلق رکھتا ہے دنیا پر آہستہ آہستہ کھولا گیا ہے اور اس کی پوری تکمیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہوئی ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ(المائدة :۴) آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر کمال تک پہنچا دی۔پس آدم علیہ السلام پر تمام صفاتِ الٰہیہ کا پورا انکشاف نہ ہوا تھا بلکہ وہ انکشاف آہستہ آہستہ کامل ہوتا ہوا رسول کریم صلعم کے ذریعہ سے اپنی انتہا کو پہنچا اور آدم کو سب اسماء سکھانے کا صرف یہ مطلب ہے کہ ان کے زمانہ کے ساتھ جن صفاتِ الٰہیہ کے ظہور کا تعلق تھا اور جس حد تک تعلق تھا اسی حد تک انہیں ظاہر کیا گیا اسی طرح جو صفاتِ الٰہیہ کہ انسانوں سے متعلق نہیں ان کا انکشاف بھی کُلَّکے لفظ میں شامل نہیں۔ہاں کُلَّکے لفظ سے انسانوں سے تعلق رکھنے والی کل صفات بھی مراد لی جا سکتی ہیں مگر اس صورت میں آیت کے یہ معنے ہوں گےکہ کل صفات کے سمجھنے کی قابلیت آدم اور اس کی ذرّیت میں رکھی یعنی یہ تعلیم بالقوّہ اور بالا جمال تھی بالفعل اور بالتفصیل نہ تھی۔بالفعل اور تفصیلاً یہ تعلیم مکمل صورت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے پوری ہوئی۔اسی طرح زبان کے اسماء سکھانے سے یہ مراد نہیں کہ کل اسماء اور زبان کے مادے آدم علیہ السلام کو سکھائے گئے بلکہ اصول مراد ہیں جو بعد میں ترقی کرتے کرتے کامل عربی زبان کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ سے مراد یہ جو فرمایا کہ ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ پھر انہیں ملائکہ کے سامنے پیش کیا۔اس سے مراد اسماء نہیں ہو سکتے کیونکہ اسماء کا لفظ عربی زبان کے قاعدہ کے مطابق مؤنث ہے چنانچہ اس سے پہلے اسماء کی طرف کُلَّہَا کے لفظ میں ھا کی ضمیر آ چکی ہے جو مؤنث ہے لیکن عَرَضَھُمْ میں جمع مذکر کی ضمیر آئی ہے پس معلوم ہوا کہ ملائکہ کے سامنے اسماء نہیں پیش کئے گئے بلکہ جن کے نام تھے ان کے وجود پیش کئے گئے۔اسی طرح عَرَضَھُمْ میں جو ھُمْکی ضمیر استعمال ہوئی ہے اس سے بھی ظاہر ہے کہ جن کو پیش کیا گیا ہے وہ چیزیں نہ تھیںیعنی پیالے یا لوٹے یا ہنڈیاں پیش نہیں ہوئیں کیونکہ اگر ان چیزوں کا ذکر ہوتا تو بھی عَرَضَھَا آنا چاہیے تھا کیونکہ بے جان چیزوں کی طرف بھی بلکہ جاندار اور غیر ذوی العقول کی طرف بھی عربی زبان میں ھُمْکی ضمیر نہیں پھیری جاتی ھُمْ کی ضمیر صرف ذوی العقول کی طرف پھیری جاتی ہے پس عَرَضَھُمْ کے الفاظ سے یہ بھی