تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 460

ظاہر ہے کہ جو وجود ملائکہ کے سامنے لائے گئے وہ ذوی العقول تھے۔عَرَضَھُمْ کے معنوں میں یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ وجود عملاً پیش کئے گئے ہوں کیونکہ عَرَضَھُمْ کے ایک معنی دکھانے کے بھی ہیں پس اگر ھُمْ کی ضمیر آدم کی آئندہ نسل یا اس کے کامل ظہوروں کی طرف پھرائی جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ مُسَمِّیات ملائکہ کو دکھائے یعنی کشف کے ذریعہ سے آئندہ ہونے والے مظاہر کا نقشہ ملائکہ کو دکھا دیا۔اب رہا یہ سوال کہ وہ کیا تھے؟سو سیاق و سباق پر غور کر کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ملائکہ کو خلیفہ بنانے پر اس لئے تعجب تھا کہ اس کے سبب سے خونریزی ہو گی اور فساد ہو گا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو ان صفات الٰہیہ کے جو آدم اور اس کی نسل پر ظاہر ہونے والی تھیں کامل مظاہر دکھائے اور پوچھا کہ اگر تمہاری بات درست ہے تو پھر ان کے نام بتائو یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات رحم کی یا غضب کی جس طرح ان کے ذریعہ سے ظاہر ہونے والی تھیں ان کا نقشہ ان وجودوں کے ذریعہ سے دکھایا اور ملائکہ سے پوچھا کہ کیا تم ان کی تفصیل بتا سکتے ہو۔دوسرے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ آدم کو تعلیمِ اسماء کے بعد اور خلافت سونپنے کے بعد جو اعوان و انصار ملے اور جن کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی مختلف صفات کا ظہور ہوا ان افراد کو ملائکہ کے سامنے پیش کیا اور پوچھا کہ اگر تمہارا خیال درست ہے تو ان کے نام بتائو یعنی ان کی صفات کاملہ کی تفصیل بیان کرو مطلب یہ کہ یہ افراد تو صلح و آشتی کا نمونہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والے ہیں اور آدم کے پیدا کردہ لوگ تو یہ ہیں ان سے سَفکِ دَم اور فساد کس طرح پیدا ہو سکتا ہے اور ان کے بالمقابل جو لوگ آدم کے دشمن ہیں یا اس کی تعلیم پر ظاہر میں ایمان لائے ہیں مگر سچے متبع نہیں اگر ان سے سَفکِ دَم یا فساد پیدا ہو تو ان کے اعمال کا آدم کس طرح ذمہ وار ہو سکتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ آج تک کوئی نبی بھی دنیا میں نہیں آیا جس کی بعثت کے ساتھ ساتھ سَفکِ دَم اور فساد بھی نہ ہوا ہو مگر وہ سَفکِ دَم اور فساد اس کے یا اس کے اتباع کے اعمال کی وجہ سے یا ان کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ ان کے منشاء کے خلاف اور ان کے مخالفوں کی شرارتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔پس جو فساد بظاہر نیا پیدا شدہ نظر آتا ہے وہ دیرینہ فساد کا اظہار اور اس کی آخری سرکشی کا شعلہ ہوتا ہے۔نبی فساد پیدا نہیں کرتا بلکہ شریروں کے اندرونی ُخبث کے اظہار کا ذریعہ ہو جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب تک اندرونی ُخبثباہر نہ آئے اس کا علاج اور قلع قمع بھی ناممکن ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی اسی مضمون کو ان الفاظ میں ادا کیا ہے۔’’یہ مت سمجھو کہ میں زمین پر صلح کروانے آیا۔صلح کروانے نہیں بلکہ تلوار چلانے کو آیا ہوں کیونکہ میں آیا ہوںکہ مرد کو اس کے باپ اور بیٹی کو اس کی ماں اور بہو کو