تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 458
جیسا کہ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ کے الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا تعلق ان اسماء کے سکھانے سے ہے جن کا ذکر پہلے کیا گیا ہے کیونکہ پہلی آیت میں صرف اس امر کا اظہار تھا کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے ایک خلیفہ بنانے کا ذکر کیا۔اس کے بعد اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بعض اسماء سکھائے۔اس کے بعد کی دو آیتوں میں انہی اسماء کے متعلق باتیں بیان کی گئی ہیں۔ان کے بعد فرماتا ہے کہ ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کی فرمانبرداری کرو۔اس سے ظاہر ہے کہ آدم کی خلافت ان اسماء کے سکھانے کے بعد شروع ہوئی اور اسی وقت سے ملائکہ کو اس کی تائید اور نصرت کا حکم ملا پس پہلی آیت آدم کی خلافت کی خبر نہیں دیتی تھی بلکہ صرف خلافت کی خبر دیتی تھی اس کے بعد جب آدم علیہ السلام کو اسماء سکھائے گئے تو یہ گویا اس شخص کی تعیین کا اظہار تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خلافت کے لئے چُنا تھا۔یہ جو فرمایا گیا ہے وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا آدم کو اللہ تعالیٰ نے سب نام سکھائے اس سے یہ دھوکہ نہ کھانا چاہیے کہ تمام صفاتِ الٰہیہ کا مکمل علم آدم کو دیا گیا یا زبان کا مکمل علم آدم کو دیا گیا کیونکہ کُلّ کا لفظ عربی زبان کے محاورہ کے مطابق ضروری نہیں کہ تمام افرادِ جنس پر مشتمل ہو بلکہ بسا اوقات یہ لفظ ضرورت کے مطابق اشیاء پر بولا جاتا ہے قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر کُلّ کا لفظ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ(الانعام :۴۵) یعنی جب تجھ سے پہلی قوموں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے پہلے تو ہر قسم کی ترقیات کے دروازے ان پر کھول دیئے (اور پھر ان پر عذاب نازل کیا) جیسا کے ظاہر ہے اس آیت میں کُلَّ کے لفظ کے یہ معنی نہیں کہ ہر نعمت دنیا کی ان کو ملی بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ اس زمانہ کی اور ان کے ملک کی بڑی بڑی نعمتوں سے اُنہیں حصہ ملا۔اسی طرح اہل مکہ کی نسبت آتا ہے اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْبٰۤى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا(القصص : ۵۸) یعنی کیا اہلِ مکہ کو ہم نے ایک عزت والے اور محفوظ مقام میں جگہ نہیں دی کہ ہماری طرف سے انعام کے طور پر اس کی طرف ہر قسم کے میوے لائے جاتے ہیں۔اس آیت میں بھی کُلَّسے تمام دنیا کے میوے مراد نہیں بلکہ بہت سے میوے جو اہلِ مکہ کی صحت کی درستی اور ان کی لذت کا سامان پیدا کرنے کے لئے ضروری تھے مراد ہیں۔ان کے علاوہ بھی اور کئی آیات میں کُلّ کا لفظ بہت سے یا حسبِ ضرورت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔عربی زبان کے علاوہ باقی سب زبانوں میں بھی کُلَّ یا اس کے ہم معنی الفاظ علاوہ اپنے اصلی معنوں کے کثرت یا حسب ِ ضرورت کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں اور سیاق و سباق یا محلِّ استعمال سے ان کے اصلی