تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 457
کے تمام لفظ بامعنٰی تھے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ آدم علیہ السلام کواللہ تعالیٰ نے عربی زبان سکھائی جو بعد میں دوسری زبانوں کی ماں بنی۔عربی زبان اُمُّ الْاَلْسِنَہ ہے (اس لطیف نکتہ کے لئے بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کی کتاب مِنَنُ الرَّحْمٰن دیکھو جس میں نہایت لطیف پیرایہ میں عربی زبان کے اُمُّ الْاَلْسِنَہ ہونے کا مسئلہ بتایا گیا ہے)۔میری مراد اوپر کی تحریر سے یہ ہر گز نہیں کہ عربی زبان اپنی موجودہ شکل میں آدم علیہ السلام کو سکھائی گئی یا یہ کہ آدم علیہ السلام کے بعد اس نے ترقی نہیں کی بلکہ میری مراد صرف یہ ہے کہ اس آیت کے مفہوم کے مطابق عربی زبان کے بعض اصول پر اس وقت بنیاد رکھی گئی تھی باقی رہا یہ کہ وہ بعد میں تبدیل بھی ہوئی یا اس میں اور الفاظ کی ترقی ہوئی اس کا نہ اس مسئلہ سے تعلق ہے نہ اس سے عربی زبان کی اس افضلیت یا خصوصیت میں کوئی فرق آتا ہے۔اصول وہی ہیں ہاں !ان اصول کی اتباع میں زبان آگے ترقی کرتی چلی گئی ہے اور آئندہ بھی ترقی کر سکتی ہے۔عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ میں علم کے معنے خارجی ذرائع سے سکھانے کے عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کی ایک اور تفسیر بھی ہو سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ عَلَّمَ کے معنے خارجی ذرائع سے سکھانے کے علاوہ طبعی طورپر سکھانے کے بھی ہوں یعنی یہ مطلب بھی ہو کہ آدم کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے مختلف علوم کے سیکھنے کا مادہ رکھا۔یہ ظاہر ہے کہ ہر جنس کے افراد گو اپنی جنس سے تعلق رکھنے والے علوم کو بھی ایک دوسرے سے کم و بیش سیکھتے ہیں لیکن جو علوم ان کے دائرہ سے باہر ہوں انہیں وہ بالکل نہیں سیکھ سکتے۔پس معلوم ہوا کہ ہر جنس کے لئے اللہ تعالیٰ نے الگ الگ قوتوں کے دائرے مقرر کئے ہیں۔انسان کے علم حاصل کرنے کا دائرہ اور ہے طوطے کا اور مینا کا اور گھوڑے کا اور۔اور کتے کا اور۔مینا طوطا بھی سکھانے سے چند لفظ سیکھ لیتے ہیں لیکن پوری طرح بات سمجھ کر ہر قسم کے موضوع پر بات نہیں کر سکتے لیکن انسان ایسا کر سکتا ہے۔گھوڑے اور کتے بھی بعض کرتب سیکھ لیتے ہیں لیکن انسان کی طرح ان کا یہ سیکھنا وسیع نہیں ہوتا۔پس ایک معنی اس آیت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر وسیع علوم سیکھنے کی قابلیت پیدا کی۔اس صورت میں عَلَّمَ الْاَسْمَآءَ کے یہ معنے ہوں گے کہ اس نے مختلف اشیاء کے خواص سمجھنے کی قابلیت انسان میں پیدا کی چنانچہ آدم کے وقت سے اس وقت تک انسان مختلف علوم میں ایجادیں کر رہا ہے اور ہر روز اس کا علم پہلے سے بڑھ رہا ہے اس صورت میں اسماء کے معنی خواص اور صفات کے ہی ہوں گے مگر صفات الٰہیہ کی بجائے صفات طبعیہ کے معنے کئے جائیں گے۔منطقی اصطلاح کی روشنی میں ان معنوں کی تشریح یہ ہو گی کہ آدم کو ہم نے حیوانِ ناطق بنایا یعنی مختلف اشیاء پر غور کرنے اور اس کی کنہ کو پہنچنے اور دوسروں کو سکھانے کی قابلیت اس میں رکھی