تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 456
کیا گیا ہے زبان کا مفہوم بھی اس آیت کے مفہوم میں بطور تنزّل شامل ہے۔کیونکہ تمدن کے قیام کے لئے کسی زبان کا ہونا ضروری تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو زبان کے اصول سکھائے جن کے مطابق انہو ںنے زبان کا علم جاری کیا اور اسی آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زبان عربی زبان تھی کیونکہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ آدم کو اسماء مسمّیات کے ذریعہ سے سکھائے گئے تھے۔یعنی جس زبان کا انہیں علم دیا گیا تھا اس کی بناء مسمّیات اور اسماء کے اتحاد پر تھی یعنی ہر چیز کا نام اس کی خصوصیت کی بناء پر رکھا گیا تھا نہ کہ بے تعلق اور بے ربط اور یہ خصوصیت صرف عربی زبان میں ہے کہ اس کے تمام اسماء مسمّیات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔دوسری زبانوں میں یہ بات نہیں ہے۔ان زبانوں میں نام سے صرف شناخت کا فائدہ حاصل کیا گیا ہے اگر ان ناموں کو بدل دیا جائے تو بھی کوئی ہرج واقع نہیں ہوتا مثلاً اُردو میں غلہ سے بنائی ہوئی غذا کو روٹی کہتے ہیں۔انگریزی میں بریڈ اور فارسی میں نان۔اگر ان ناموں کی جگہ مثلاً جوئی یا جریڈ یا پان۔اس چیز کے نام رکھ دئے جائیں تو کوئی ہرج واقع نہیں ہوتا مگر عربی زبان میں اس چیز کا نام خُبْزٌہے جو با معنٰی ہے۔عربی زبان میں خ ب ز جمع ہوں تو ان کے معنوں میں عمل اور پھولنے کے معنے پائے جاتے ہیں۔چنانچہ بَزَخَ کے معنی ہیں سینہ کو باہر نکالا اور خَزَبَ کے معنی ہیں بغیر بیماری اور نقص کے موٹا ہو گیا اور خَبَزَ کے معنے ہیں جلدی جلدی ہاتھ مار کے عمل کیا۔پس خُبْزٌکے معنے ہوئے وہ چیز جسے جلدی جلدی ہاتھوں سے تیار کیا جائے اور وہ موٹی ہو جائے اور پھول جائے اور یہ روٹی کا عین نقشہ ہے۔روٹی کو جلدی جلدی ہاتھ مار کر تیار کیا جاتا ہے اور آگ میں رکھنے کے بعد وہ پھول جاتی ہے۔اب ظاہر ہے کہ روٹی کے لئے اگر عربی زبان میں خُبْزٌ کی جگہ کوئی اور لفظ رکھا جائے تو اس سے روٹی کی حقیقت ظاہر نہیں ہوتی بلکہ روٹی کا مفہوم خ ب ز کے حروف کے ملانے سے ہی پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نام ربّ کو لے لو۔ربّ کے معنے تربیت کرنے اور ادنی سے اعلیٰ حالت تک پہنچانے کے ہیں۔اس لفظ کی جگہ کوئی اور لفظ رکھو تو یہ غرض کبھی پوری نہ ہو گی۔پھر عربی میں آسمان کو سَمَآئٌ کہتے ہیں س م و جس سے یہ لفظ بنا ہے بلندی اور اِرتفاع پر دلالت کرتاہے مگر آسمان فارسی کا لفظ یا سکائی انگریزی کا لفظ اس حقیقت کو ظاہر نہیں کرتا پس عربی ہی ایک ایسی زبان ہے جس میں سب نام، نام والے کی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں اگر ان نامو ںکوبدل دو تو وہ اس حقیقت کو ظاہر نہیں کریںگے بلکہ صرف ایک علامت رہ جائیںگے لیکن دوسری زبانوں میں اس حقیقت کا نام و نشان نہیں پایا جاتا اِلَّا مَاشَآئَ اللّٰہ۔آدم علیہ السلام کو عربی زبان کے اصول سکھائے گئے پس زبان سکھانے کے معنو ںسے یہ مراد لی جائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک ایسی زبان سکھائی جو بے معنے او ربے ربط نہ تھی بلکہ اس کی بنیاد فلسفہ پر تھی اور اس