تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 449

واقف ہیں اور کچھ ق<mark>ان</mark>ون <mark>ان</mark> کے ایسے مخفی ہیں کہ ہزاروں سالوں کے مشاہدہ کے بعد <mark>ان</mark> کا ایک نہایت خفیف حصہ علم ہیئت کے ماہر اور سائنسد<mark>ان</mark> دریافت کر سکے ہیں اور مزید تحقیقاتیں ہوتی جا رہی ہیں۔اس وسیع سلسلہ علت و معلول اورسبب او رمُسبّب کی اوّل کڑی ملائکہ ہیں اور جس طرح آخری کڑیوں کو دیکھ کر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے قادر ہونے پر اعتراض نہیں کر سکتا اسی طرح پہلی کڑی کی وجہ سے بھی اس کی قدرت پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔<mark>غرض</mark> یہ اور بات ہے کہ کوئی <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> خدا تعالیٰ کا ہی <mark>ان</mark>کار کرے۔اس صورت میں تو اسے پہلے ہستی باری تعالیٰ کے دلائل معلوم کرنے چاہئیں لیکن خدا تعالیٰ کو م<mark>ان</mark> کر اور یہ م<mark>ان</mark> کر کہ خدا تعالیٰ اس دنیا میں ق<mark>ان</mark>ون اور وسائط سے کام لے رہا ہے اور سب کارخ<mark>ان</mark>ہ اس دنیا کا مختلف وسیلوں اور اسباب اور علتوں کے ماتحت چلایا جا رہا ہے یہ کہنا کہ فرشتوںکا وجود خدا تعالیٰ کی قدرت کے خلاف ہے ایک نہایت ہی کمزور وہم ہے۔اگر اورہزاروں وسیلوں اور اسباب اور علتوں اور ق<mark>ان</mark>ونوں سے کام لینے سے خدا تعالیٰ کی قدرت میں فرق نہیں آتا تو فرشتوں کے پیدا کرنے سے کیوں خدا تعالیٰ کی قدرت میں فرق آ جائے گا؟ اگر آنکھ کو دیکھنے کے قابل بن<mark>ان</mark>ے کے لئے خدا تعالیٰ نے روشنی پیدا کی ہے او راس سے خدا تعالیٰ کے قادر ہونے میں فرق نہیں آیا اور ک<mark>ان</mark>وں کو شنوائی پر قادر کرنے کے لئے اس نے ہوا پیدا کی ہے اور اس سے اس کی قدرت پر کوئی حرف نہیں آیا تو اسی طرح فرشتوںکو کارخ<mark>ان</mark>ہ عالم کے چل<mark>ان</mark>ے میں ایک علت ِ اُولیٰ بن<mark>ان</mark>ے میں اس کی قدرت میں کوئی فرق نہیں آتا۔قرآنِ کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ نظامِ عالم کا سلسلہ جس طرف بھی اسے لے جایا جائے آہستہ آہستہ باریک درباریک ِعلل یا نتائج میں غائب ہو جاتا ہے۔صرف اس کی درمی<mark>ان</mark>ی کڑیاں ظاہر او ر روشن ہوتی ہیں۔<mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> ہی کو لے لو اس کی پیدائش کے پہلے کے علل اور اسباب بھی مخفی ہیں اور اس کی موت کے بعد کے نتائج بھی مخفی ہیں۔<mark>ان</mark> دونوں مخفی اور باریک حالات کا فرشتوں سے جو مخلوق کی زنجیر کی باریک ترین کڑیاں ہیں گہرا تعلق ہے گویا وہ خدا تعالیٰ اور دوسری مخلوق کے درمی<mark>ان</mark> ایک واسطہ کے طو رپر ہیں چن<mark>ان</mark>چہ قرآن کریم فرماتا ہے وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى (النجم :۴۳) اور بات یہ ہے کہ ہر چیز کی <mark>ان</mark>تہا تیرے رب کی طرف جاتی ہے اور اس <mark>ان</mark>تہا کا ذریعہ خدا تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ مخلوق کا آخری واسطہ خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے ملائک ہیں۔جب چیز پیدا ہوتی ہے تو اس کی پہلی کڑی ملائکہ ہوتے ہیں اور جب ختم ہوتی ہے یا اپنی منزل ختم کرتی ہے تو اس کی آخری کڑی بھی ملائکہ ہوتے ہیں اور اس طرح باریک درباریک اسباب سے شروع ہو کر مخلوق ظاہری شکل اختیار کرتی ہے اور پھر باریک در باریک شکلوں میں بدلتے ہوئے فرشتوں کے ذریعہ سے اپنی منزل مقصود کو پہنچ جاتی ہے چن<mark>ان</mark>چہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ