تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 449
واقف ہیں اور کچھ قانون ان کے ایسے مخفی ہیں کہ ہزاروں سالوں کے مشاہدہ کے بعد ان کا ایک نہایت خفیف حصہ علم ہیئت کے ماہر اور سائنسدان دریافت کر سکے ہیں اور مزید تحقیقاتیں ہوتی جا رہی ہیں۔اس وسیع سلسلہ علت و معلول اورسبب او رمُسبّب کی اوّل کڑی ملائکہ ہیں اور جس طرح آخری کڑیوں کو دیکھ کر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے قادر ہونے پر اعتراض نہیں کر سکتا اسی طرح پہلی کڑی کی وجہ سے بھی اس کی قدرت پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔غرض یہ اور بات ہے کہ کوئی انسان خدا تعالیٰ کا ہی انکار کرے۔اس صورت میں تو اسے پہلے ہستی باری تعالیٰ کے دلائل معلوم کرنے چاہئیں لیکن خدا تعالیٰ کو مان کر اور یہ مان کر کہ خدا تعالیٰ اس دنیا میں قانون اور وسائط سے کام لے رہا ہے اور سب کارخانہ اس دنیا کا مختلف وسیلوں اور اسباب اور علتوں کے ماتحت چلایا جا رہا ہے یہ کہنا کہ فرشتوںکا وجود خدا تعالیٰ کی قدرت کے خلاف ہے ایک نہایت ہی کمزور وہم ہے۔اگر اورہزاروں وسیلوں اور اسباب اور علتوں اور قانونوں سے کام لینے سے خدا تعالیٰ کی قدرت میں فرق نہیں آتا تو فرشتوں کے پیدا کرنے سے کیوں خدا تعالیٰ کی قدرت میں فرق آ جائے گا؟ اگر آنکھ کو دیکھنے کے قابل بنانے کے لئے خدا تعالیٰ نے روشنی پیدا کی ہے او راس سے خدا تعالیٰ کے قادر ہونے میں فرق نہیں آیا اور کانوں کو شنوائی پر قادر کرنے کے لئے اس نے ہوا پیدا کی ہے اور اس سے اس کی قدرت پر کوئی حرف نہیں آیا تو اسی طرح فرشتوںکو کارخانہ عالم کے چلانے میں ایک علت ِ اُولیٰ بنانے میں اس کی قدرت میں کوئی فرق نہیں آتا۔قرآنِ کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ نظامِ عالم کا سلسلہ جس طرف بھی اسے لے جایا جائے آہستہ آہستہ باریک درباریک ِعلل یا نتائج میں غائب ہو جاتا ہے۔صرف اس کی درمیانی کڑیاں ظاہر او ر روشن ہوتی ہیں۔انسان ہی کو لے لو اس کی پیدائش کے پہلے کے علل اور اسباب بھی مخفی ہیں اور اس کی موت کے بعد کے نتائج بھی مخفی ہیں۔ان دونوں مخفی اور باریک حالات کا فرشتوں سے جو مخلوق کی زنجیر کی باریک ترین کڑیاں ہیں گہرا تعلق ہے گویا وہ خدا تعالیٰ اور دوسری مخلوق کے درمیان ایک واسطہ کے طو رپر ہیں چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى (النجم :۴۳) اور بات یہ ہے کہ ہر چیز کی انتہا تیرے رب کی طرف جاتی ہے اور اس انتہا کا ذریعہ خدا تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ مخلوق کا آخری واسطہ خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے ملائک ہیں۔جب چیز پیدا ہوتی ہے تو اس کی پہلی کڑی ملائکہ ہوتے ہیں اور جب ختم ہوتی ہے یا اپنی منزل ختم کرتی ہے تو اس کی آخری کڑی بھی ملائکہ ہوتے ہیں اور اس طرح باریک درباریک اسباب سے شروع ہو کر مخلوق ظاہری شکل اختیار کرتی ہے اور پھر باریک در باریک شکلوں میں بدلتے ہوئے فرشتوں کے ذریعہ سے اپنی منزل مقصود کو پہنچ جاتی ہے چنانچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ