تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 450

تمام نظامِ عالم کی ابتدائی کڑیاں ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکم کو چلانے والے ہیں قرآن کریم فرماتا ہے۔اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ۠ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (المومن :۸) یعنی فرشتے جو عرش کو اُٹھا رہے ہیں اور وہ بھی جو عرش کے گرد ہیں اپنے رب کی حمد کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومنوں کے قصوروں کے لئے معافی کی دعائوں میں لگے رہتے ہیں۔عرش کے معنے سورہ یونس آیت نمبر ۴میں بیان کئے گئے ہیں اور ثابت کیا گیا ہے کہ اس سے مراد صفاتِ الٰہیہ کے ظہور کے ہیں۔پس عرش کو اُٹھانے کے معنے یہ ہوئے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرتے ہیں۔چونکہ کارخانۂِ عالم صفاتِ الٰہیہ کے ماتحت چلتا ہے اس کا مطلب یہ نکلا کہ تمام کارخانۂِ عالم کے چلانے کی وہ پہلی کڑیاں ہیں اور خدا تعالیٰ کی صفات کو عالمِ مادی میں جاری کرتے ہیں۔فرشتوں کو آدم کی فرمانبرداری کا حکم دینے سے مراد آدم کی قبولیت کا دنیا میں پھیلانا قرآنِ کریم کی مختلف آیات میں فرشتوں کے کام بھی بیان کئے گئے ہیں مثلاً وحی الٰہی کا نزول، قانونِ قدرت کا اجراء، موت و حیات کے قانون کو چلانا، نیک تحریکوں کا دلو ںمیں پیدا کرنا وغیرہ وغیرہ جن کو ان کی متعلقہ آیات کے ماتحت بیان کیا جائے گا اس آیت زیر تفسیر میں جو ملائکہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کی وجہ چند آیات چھوڑ کر بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے۔وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا (البقرة:۳۵) یعنی یاد کرو جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کی فرمانبرداری کرو پس سب نے فرمانبرداری کی۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ کا ایک کام یہ بھی ہے کہ چونکہ وہ تمام اسباب مادیہ کی علت ِاُولیٰ ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی مامور کو مبعوث فرماتا ہے تو ساتھ ہی انہیں بھی حکم ملتا ہے کہ وہ تمام کائنات کو اس کی تائید میں لگا دیں اور اس طرح کل دنیا ہی مامور کی خدمت میں لگ جاتی ہے اور وہ باوجود شدید مخالفت کے آخر غالب آ جاتا ہے اور اس مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے جس کے لئے اسے بھیجا جاتا ہے۔حدیث نبوی میں بھی یہ امر بیان ہوا ہے چنانچہ حدیث میں آتا ہے اِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا نَادیٰ جِبْرِیْلَ: اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُـلَانًا فَاَحِبَّہٗ فَیُحِبُّہٗ جِبْرِیْلُ، فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ فِیْ اَھْلِ السَّمَآءِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُـلَا نًا فَاَحِبُّوْہُ فَیُحِبُّہٗ اَھْلُ السَّمَآءِ ، ثُمَّ یُوْضَعُ لَہُ الْقَبُوْلُ فِیْ اَھْلِ الْاَرْضِ (بخاری کتاب الادب باب الْمِقَةِ مِنَ اللہ تعالٰی) یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو جبریل سے فرماتا ہے کہ میں خدا فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔اس پر جبریل بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر جبریل دوسرے آسمانی فرشتوں سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے پس تم بھی اس سے محبت کرو اس پر سب آسمانی وجود اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد دنیا کے لوگوں میں بھی اس کی قبولیت کی رُوح پیدا کر دی جاتی ہے۔اس حدیث میں اوپر کی آیت کا مضمون ہی دوسرے لفظوں میں بیان کیا