تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 445
غرض یوشع سے لے کر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے معاً بعد ان کے خلیفہ ہوئے حضرت مسیح ناصری تک کے سب انبیاء اور مجدّدین حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ اور ان کی شریعت کو جاری کرنے والے تھے۔امت محمدیہ میں تین قسم کی خلافتوں کا وعدہ اُمتِ محمدؐیہ میں ان تینوں قسم کی خلافتوں کا وعدہ بھی قرآنِ کریم سے ثابت ہے جن سے افسوس کہ بعض مسلمان غافل رہے اور ان سے صحیح فائدہ نہ اُٹھا سکے چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(النّور :۵۶) یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے مومنوں اور مناسبِ حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کرتا ہے کہ ضرور ان کو بھی زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو خلیفہ بنایا تھا اور ضرور ان کے لئے ان کے اس دین کو جس کو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مضبوطی سے قائم کرے گا اور ان کے خوف کے بعد امن کی حالت پیدا کر دے گا وہ میری عبادت کریںگے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیںگے اور جو لوگ اس کے بعد بھی کفر کریںگے وہ نافرمان قرار دیئے جائیں گے۔مسلمانوں کی شوکت کے ضائع ہونے کی ایک وجہ اس آیت میں مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ان کو پہلی اُمتوں کی طرح کی خلافت حاصل ہو گی اور پہلی امتوں کی خلافت جیسا کہ قرآنِ کریم سے اوپر ثابت کیا جا چکاہے تین قسم کی تھی (۱) ایسے انبیاء ان میں پیدا ہوئے جو ان کی شریعت کی خدمت کرنے والے تھے (۲) ایسے وجود ان میں کھڑے کئے گئے جو نبی تو نہ تھے لیکن خدا تعالیٰ کی خاص حکمت نے ان کو ان امتوں کی خدمت کے لئے چن لیا تھا اور وہ اُمت کو صحیح راستہ پر رکھنے کے کام پر خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت لگائے گئے تھے (۳) ان امتوں کو خدا تعالیٰ نے پہلی قوموں کا قائم مقام بنایا اور پہلوں سے شوکت چھین کر ان کو دی۔یہ تین قسم کی خلافتیں ہیں جن کا مسلمانوں سے وعدہ تھا اور تینوں کے حصول سے ہی اسلام کی شوکت پوری طرح ظاہر ہو سکتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مسلمانوں کو اس وعدہ کے مطابق پہلی قوموں کی جگہ پر متمکن کر دیا اور ان کے دشمنوں کو ہلاک اور برباد کر دیا اور اگر مسلمان ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہتے تو ہمیشہ کے لئے ان کی شوکت قائم رہتی لیکن افسوس کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وہ دین کی طرف سے ہٹ کر دنیا میں مشغول ہو گئے اور انہوں نے غلطی سے سمجھا کہ دوسری اقوام کی طرح وہ دنیا میں مشغول ہو کر بھی ترقی کر سکتے ہیں حالانکہ قرآنِ کریم صاف فرما چکا تھا کہ مسلمانو ںکی ترقی دوسری اقوام کی طرح نہ ہو گی بلکہ وہ جب ترقی کریںگے ایمان اور عملِ صالح