تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 444

کی امت کا مقرر کردہ بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے مقرر کیا جاتا ہے۔اس قسم کے خلفاء بنی اسرائیل میں بہت سے گزرے ہیں بلکہ جس قدر انبیاء بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں آئے ہیں سب اسی قسم کے خلفاء تھے یعنی وہ نبی تو تھے مگر کسی جدید شریعت کے ساتھ نہ آئے تھے بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو ہی دنیا میں جاری کرنے کے لئے آئے تھے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَآءَ(المائدة: ۴۵) یعنی ہم نے تورات اُتاری تھی جس میں ہدایت اور نور تھے۔تورات کے ذریعہ سے بہت سے نبی جو (موسیٰ ؑ کے) فرمانبردار تھے اور اسی طرح رباّنی اور احبار بوجہ اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی حفاظت کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا یہود کے درمیان فیصلے کرتے تھے اور یہ انبیاء اور رباّنی اور احبار تورات پر بطور نگران مقرر تھے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کچھ انبیاء ایسے آئے تھے جن کا کام موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا قیام تھا اور وہ گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔(۲) ان انبیاء کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی جن کو رباّنی اور احبار کہنا چاہیے اس کام پر مقرر تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء اور مجددین کا ایک لمبا سلسلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے خلفاء کے طو رپر ظاہر ہوتا رہا جن کا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کام کی تکمیل تھا۔اس سلسلہ کی آخری کڑی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام تھے جن کو تدبرّ فیِ القرآن نہ کرنے کے سبب کئی مسلمان خصوصاً آخری زمانہ کے مسلمان باشریعت نبی سمجھ بیٹھے ہیں۔اسی طرح اس زمانہ کے مسیحی ان کی نسبت یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ وہ ایک نیا قانون لے کر آئے تھے اور اسی وجہ سے وہ ان کی کتاب کو نیا عہد نامہ کہتے ہیں حالانکہ قرآنِ کریم ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین کا قائم کرنے والا ایک خلیفہ قرار دیتا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا آیت سے چند آیات بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ قَفَّيْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ (المائدة:۴۷) یعنی ہم نے مذکورہ بالا نبیوں کے بعد جو تورات کی تعلیم کو جاری کرنے کے لئے آئے تھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو ان کے نقش قدم پر چلنے والے تھے اور توریت کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والے تھے۔خود مسیح ناصری فرماتے ہیں۔’’یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا ہوں۔میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں۔ایک نقطہ یا شوشہ توریت کا ہر گز نہیں مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔‘‘(متی باب ۵ آیت ۱۷ و ۱۸)