تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 443
ہوا ہے کیونکہ گو آدم اس معنے میں بھی خلیفہ تھا کہ ایک پہلی نسل کے تباہ ہونے پر اس نے اور اس کی نسل نے جگہ لی اور اس معنے میں بھی خلیفہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے ایک بڑی نسل چلائی۔لیکن وہ سب سے بڑی اہمیت جو اسے حاصل تھی وہ نبوت اور ماموریت ہی کی تھی جس کی طرف اس آیت میں سب سے پہلا اشارہ ہے۔لفظ خلیفہ کے معنے نبی یا مامور کے نبی یا مامور اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہوتے ہیں یعنی صفات الٰہیہ کو اپنے زمانہ کی ضرورت کے مطابق دنیا پر ظاہر کرتے ہیں اور اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ظل بن کر ظاہر ہوتے ہیں۔انہی معنوں میں حضرت دائود کو بھی خلیفہ کہا گیا ہے (صٓ :۲۷) (۲) دوسرے ہر قوم جو پہلی قوم کی تباہی پر اس کی جگہ لیتی ہے ان معنوں میں بھی خلیفہ کا لفظ قرآن کریم میں متعدد بار استعمال ہوا ہے مثلاً حضرت ہود کی زبان سے فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ(الاعراف :۷۰) یاد کرو جبکہ خدا تعالیٰ نے تم کو قوم نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا یعنی قوم نوح کی تباہی کے بعد ان کی جگہ تم کو دنیا میں حکومت اور غلبہ حاصل ہو گیا اسی طرح حضرت صالح کی زبانی فرماتا ہے۔وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ(الاعراف :۷۵) یاد کرو جب تم کو خدا تعالیٰ نے عاد اولیٰ کی تباہی کے بعد ان کا جانشین بنایا اور حکومت تمہارے ہاتھ میں آ گئی (۳) نبی کے وہ جانشین بھی خلیفہ کہلاتے ہیں جو اس کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں یعنی اس کی شریعت پر قوم کو چلانے والے ہوں اور ان میں اتحاد قائم رکھنے والے ہوں خواہ نبی ہوں یا غیر نبی جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام موعودراتوں کے لئے طوُر پر گئے تو اپنے بعد انتظام کی غرض سے انہوں نے حضرت ہارون سے کہا کہ اُخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ(الاعراف :۱۴۳) یعنی میرے بعد میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ان کی اصلاح کو مدنظر رکھنا اور مفسد لوگوں کی بات نہ ماننا۔حضرت ہارون خود نبی تھے اور اس وقت سے پہلے نبی ہو چکے تھے۔پس یہ خلافت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں دی تھی وہ خلافت ِ نبوت نہ ہو سکتی تھی اس کے معنے صرف یہ تھے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں ان کی قوم کا انتظام کریں اور قوم کو اتحاد پر قائم رکھیں اور فساد سے بچائیں۔جہاں تک اس خلافت کا تعلق ہے یہ خلافتِ نبوت نہ تھی بلکہ خلافت انتظامی تھی مگر جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہو ںاس قسم کی شخصی خلافت علاوہ خلافتِ انتظامی کے خلافتِ نبوت بھی ہوتی ہے۔یعنی ایک سابق نبی کی امت کی درستی اور اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ ایک اور نبی کو مبعوث فرماتا ہے جو پہلے نبی کی شریعت کو ہی جاری کرتا ہے کوئی نئی شریعت جاری نہیں کرتا پس جہاں تک کہ شریعت کا تعلق ہوتا ہے وہ پہلے نبی کے کام کو قائم رکھنے والا ہوتا ہے اور اس لحاظ سے پہلے نبی کا خلیفہ ہوتا ہے لیکن عہدہ کے لحاظ سے وہ پہلے نبی کا مقرر کردہ نہیں ہوتا نہ اس