تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 442
(۶)۔مکان بنائیں اور اکٹھے رہیں۔تین سے چھ تک کے امور اس آیت سے ظاہر ہوتے ہیں اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَ لَا تَعْرٰى۔وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِيْهَا وَ لَا تَضْحٰى(طٰہٰ : ۱۱۹،۱۲۰) یعنی اے آدم! جس مقام پر ہم تم کو رکھنے لگے ہیں۔اس میں تمہارا فرض ہو گا کہ بھوکے نہ رہو اور ننگے نہ رہو اور پیاسے نہ رہو۔اور دُھوپ کی تکلیف نہ اُٹھائو۔بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھا ہے کہ یہ آدم کی جنت کی تفصیل ہے۔لیکن یہ جنت کی تفصیل نہیں ہو سکتی۔بھوکے پیاسے تو درندے بھی نہیں رہتے اور نہ وہ دھوپ میں تپتے ہیں۔یہ امور تو اسی دنیا میں جانوروں تک کو میسر ہیں۔پس یہ جنت کی تفصیل نہیں۔آدم کے تمدن کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور پہلی انسانی سوسائٹی کو بتایا گیا ہے کہ ایک جگہ رہنے سہنے کے نتیجہ میں بعض دفعہ ایک حصہ آبادی کا اپنی خوراک مہیا نہیں کر سکتا یا لباس مہیا نہیں کر سکتا۔پس جہاں تم کو تمدن کی برکات سے حصہ دیا جاتا ہے وہاں اس کی خرابیوں کے دور کرنے کا خیال رکھنا بھی تمہارا فرض ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا اور غریبوں کی مدد کرنا تمہارے ذمہ لگایا جاتا ہے اگر کوئی بوڑھا ہو جائے یا غریب ہو جائے یا اور کسی طرح معذور ہو جائے تو یہ سب کا فرض ہوگا کہ اس کے لئے روٹی اور لباس اور پانی اور رہائش کا انتظام کریں۔یہ اصول تمدن ایسے اعلیٰ درجہ کے ہیں کہ دنیا کبھی ان سے آزاد نہیں ہوئی لیکن افسوس کہ کبھی بھی دنیا نے اس طرف پوری طرح توجہ نہ کی۔سوائے اسلام کے جس کے اصولوں میں حکومت کے فرائض میں یہ امور داخل ہیں مگر افسوس کہ انھوں نے بھی بعد زمانہ خلافت ان اصول پر عمل نہیں کیا اور اس کا نتیجہ آج دنیا کو فسادوں اور جھگڑوں اور قتل و خونریزی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔خلیفہ جیسا کہ پہلے حَلِّ لُغَات اور نوٹوں میں بتایا جا چکا ہے لفظ خلیفہ کے مندرجہ ذیل معانی ہیں (۱) جو کسی پہلی قوم یا فرد کا قائم مقام ہو (۲) جو کسی بالا افسر کا اس کی زندگی ہی میں دوسرے مقام پر اس کے احکام کے نافذ کرنے کے لئے مقرر ہو (۳) جس کے بعد کوئی اس کا قائم مقام ہو خواہ (الف) اس کے اختیارات یا کام کو چلانے والا (ب) خواہ اس کی نسل۔لیکن اس آیت میں جو لفظ خلیفہکا آیا ہے اس کے معنوں کو قرآنِ کریم کے محاورہ کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔لفظ خلیفہ کے معنے قرآن کریم کے محاورہ کی روشنی میں سو جب ہم قرآنِ کریم کودیکھتے ہیں تو اس میں یہ لفظ مندرجہ ذیل تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے (۱) نبی اور مامور کے معنوں میں۔جیسا کہ اس آیت میں استعمال