تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 430
پھر جب میں اس کی قوتوں کو مکمل کر دوں اور اس میں اپنی رُوح ڈال دوں تو اس کے آگے فرمانبرداری کے طریق سے جھک جائو۔ان دو آیتوں سے شبہ پڑ سکتا ہے کہ چونکہ بشر کی پیدائش کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا ہے اور دوسری طرف آدم کے اندر نفخ رُوح کرنے کے بعد اس کی فرمانبرداری کا حکم ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ بشر سے مراد آدم ہے اور آدم ہی پہلا بشر ہے۔لیکن یاد رہے کہ اس جگہ آدم کا ذکر نہیں محض ایک بشر کی پیدائش کا ذکر ہے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ ان آیات کے یہ معنی نہ کئے جائیں کہ اللہ تعالیٰ نے بشر کی پیدائش کے وقت فرشتوں کو بتا دیا تھا کہ ایک دن بشر میرے الہام پانے کا مستحق ہو گا۔پھر آدم کے زمانہ میں اس کے خلیفہ بنانے کا وقت جب قریب آ گیا۔تو دوبارہ انہیں اپنے اس ارادہ کی خبر دی اور بتایا کہ جس امر کی میں نے تم کو خبر دی تھی اب اس کا وقت آ گیا ہے اور سَوَّیْتُہٗ میں جس وقت کی طرف اشارہ تھا اسی وقت کی طرف جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً کے الفاظ سے دوبارہ اشارہ کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ اب بشر کا تسویہ ہو گیا ہے اور وہ الہام پانے کے قابل ہو گیا ہے اس لئے اب تم اس امر کے لئے تیار ہو جائو کہ اس پر الہام نازل ہوں اور اس کی تائید کرنے لگ جائو۔قرآن کریم کی ایک دوسری آیت سے ان معنوں کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔چنانچہ سورہ سجدہ میں آتا ہے اَلَّذِيْٓاَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ۔ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ۔ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ١ؕ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ (السجدۃ:۸ تا۱۰) یعنی خدا ہی ہے جس نے ہر اس چیز کو کہ اُس نے پیدا کیا ہے ،اُس کے مطابقِ حال طاقتیں بخشی ہیں اور انسان کی پیدائش کو اس نے گیلی مٹی سے شروع کیا ہے پھر اس نے اس کی نسل کو ایک بظاہر حقیر نظر آنے والے پانی کے خلاصہ سے (یعنی نطفہ سے) بنانا شروع کیا پھر اس نے اُسے مکمل قویٰ والا بنایا اور اس میں اپنی رُوح داخل کی اور تم کو اس نے کان اور آنکھیں اور دل عطا کئے مگر باوجود اس کے تم شکر نہیں کرتے۔اس آیت میں پیدائش کی ترتیب یوں بیان کی گئی ہے۔(۱) انسان کو گیلی مٹی سے پیدا کیا گیا (۲) اس کے بعداُس کی نسل نطفہ سے چلی (۳) اس کے بعد انسانی قویٰ ایک وقت میں جاکر مکمل ہوئے (۴) اس کے بعد اس پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوا۔اس ترتیب سے صاف ظاہر ہے کہ کلامِ الٰہی نطفہ سے چلنے والی مخلوق پر نازل ہوا نہ کہ اس ابتدائی انسان پر جو گیلی مٹی سے بنا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے گیلی مٹی سے انسان بنا پھر اس کی نسل نطفہ سے جاری ہوئی۔اس کے بعد اس کے قویٰ مکمل ہوئے اور اس کے بعد کلامِ الٰہی نازل ہوا۔پس آدم جس پر کلام نازل ہوا تھا نطفہ سے پیدا ہونے والے انسانو ںمیں سے تھا نہ کہ ان انسانوں میں سے جو نطفہ کی پیدائش سے پہلی ابتدائی کڑی کے طور پر مٹی سے ترقی دے کر بنائے گئے تھے کیونکہ یہ آیت صاف بتا