تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 429

بعد ہم نے ملائکہ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا بلکہ جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے تم کو پیدا کیا اور تم کو صورت روحانیہ بخشی اس کے بعد آدم کے سجدہ کا حکم ملائکہ کو دیا۔’’تم کو پیدا کیا اور تم کو صورت روحانیہ بخشی‘‘ کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ آدم پہلا بشر نہ تھا بلکہ اس کے زمانہ میںمتعدد بشر موجود تھے جو صورت روحانیہ پا چکے تھے ان میں سے آدم چونکہ کامل وجود تھا اسے خلافت کے لئے چنا گیا اور اس کی فرمانبرداری کا فرشتوں کو حکم دیا گیا۔تیسری جگہ جہاں آدم کا ذکر کیا گیا ہے سورہ طہٰ کی یہ آیت ہے وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (طٰہٰ:۱۱۶) یعنی ہم نے اس سے پہلے آدم کو بھی خاص احکام دیئے تھے پھر وہ ایک موقع پر بھول گیا مگر ہم نے اس کی اس بھول میں ارادہ کا ظہور نہیں پایا۔بلکہ یہ فعل اس سے نادانستہ ہوا۔اس آیت میں بھی یہ ذکر نہیں کہ آدم کو سب بشروں سے پہلے پیدا کیا گیا تھا بلکہ محض یہ ذکرہے کہ آدم کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی تھی۔ان آیات کے علاوہ سورہ آل عمران میں آدم کا ذکر ہے (اٰل عمران :۳۴) جس میں صرف ان کی بزرگی کا اظہار کیا گیا ہے اور پھر دوسری دفعہ اسی سورۃ میں آدم کا ذکر ہے (اٰل عمران:۶۰) جس میں یہ بتایا ہے کہ حضرت مسیح ؑ کو آدم سے ایک مشابہت ہے مگر ان آیات میں سے کسی میں بھی یہ ذکر نہیں کہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے پہلا بشر بنا کر پیدا کیا۔بعض لوگوں کا قرآن کریم کی بعض آیتوں سے آدم علیہ السلام کے پہلے بشر ہونے کا استدلال اور اس کا ردّ فرشتوں کے سجدہ کا ذکر بغیر آدم کا نام لئے بعض اور مقامات پر ہے اور بعض لوگ ان آیتوں سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ آدم علیہ السلام پہلے بشر تھے لیکن ان سے بھی یہ مضمون ثابت نہیں ہوتا۔یہ ذکر مندرجہ ذیل آیات میں ہے فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ۔وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ۔وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ۔فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ(الحجر :۲۷تا۳۰) اور ہم نے انسان کو ایک آواز دینے والی مٹی سے پیدا کیا جو ایک پانی ملے ہوئے گارے سے بنی تھی اور ِجنوّں کو اس سے پہلے پیدا کیا۔ایک ایسی آگ سے جو گرم ہوا کی شکل کی تھی۔اور اس وقت کو بھی یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں آواز دینے والی مٹی سے جو پانی ملے ہوئے گارے سے تیار ہوئی ہے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں پھر جب میں اس کی قوتوں کو مکمل کر لوں اور اس میں اپنی رُوح ڈال دوں تو اس کے سامنے فرمانبرداری کا طریق اختیار کرتے ہوئے جھک جائو۔اسی طرح سورہ صٓ میں ہے اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ۔فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ (صٓ:۷۲،۷۳) یعنی یاد کر! جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا تھا کہ میں ایک بشر گیلی مٹی سے پیدا کرنے والاہوں