تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 427

طور پر انسان کہلانے کا مستحق ہوا اور شریعت کا حامل ہونے کے قابل ہوا اور اس وجہ سے گو آدم علیہ السلام رُوحانی لحاظ سے اَبوُ البشر ہیں کیونکہ روحانی دنیا کی ابتدا ان سے ہوئی اور وہ پہلے ملہم انسان تھے مگر جسمانی لحاظ سے ضروری نہیں کہ وہ سب موجودہ انسانوں کے باپ ہو ںبلکہ ہو سکتا ہے کہ کچھ حصہ انسانوں کا ان دوسرے بشروں کی اولاد ہو جو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے اور جو ان پر ان کے زمانہ میں ایمان لائے یا ان کے زمانہ میں تو ایمان نہ لائے مگر بعد میں آہستہ آہستہ ایمان لاتے رہے۔قرآن کریم میں بیان شدہ واقعہ آدم سے اس بات کا ثبوت کہ نسل انسانی کی ابتدا آدم سے نہیں ہوئی اب میں بتاتا ہو ںکہ قرآن کریم میںجو آدم کا واقعہ بیان ہوا ہے اس میں کہیں بھی اس امر کا اظہار نہیں کیا گیا کہ آدم علیہ السلام سے نسل انسانی کی ابتداہوئی ہے یا یہ کہ ان کے زمانہ میں اور کوئی بشر نہ تھا۔قرآن کریم میں آدم علیہ السلام کا نام لے کر ان کے واقعہ کو مندرجہ ذیل مقامات پر بیان کیا گیاہے۔اوّل تو اسی آیت میں جس کی تفسیر مَیں اس وقت لکھ رہا ہوں۔اس آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اس میں انسانی پیدائش کا کوئی ذکر نہیں صرف یہ فرماتا ہے کہ یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوںاور یہ فقرہ اپنی بناوٹ سے ہی ظاہر کرتا ہے کہ آدم اور اُن کے کچھ ہم جنس پہلے ہی موجود تھے ان کے بنانے کا اس وقت سوال نہ تھا بلکہ سوال صرف بشر میں سے ایک خلیفہ بنانے کا تھا اور ظاہر ہے کہ خلیفہ بنانے سے ہر گز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس سے پہلے کوئی انسان نہ تھا بلکہ صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس وقت خلیفۃ اللہ نہ تھا۔قرآن کریم میں حضرت دائود ؑ کو بھی خلیفۃاللہ کہا گیا ہے اور حضرت دائود ؑ کسی لحاظ سے بھی پہلے انسان نہ تھے ان کی نسبت آتا ہے۔يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ(صٓ :۲۷) یعنی اے دائود! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے پس سچائی کے مطابق لوگوں میں فیصلہ کر اور اپنی خواہشات کی پیروی نہ کر کیونکہ اگر تو ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بھٹک جائے گا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ خلیفہ بنانے سے صرف یہ مراد ہے کہ وہ بنی نوع انسان میں انصاف کی حکومت قائم کرے اور انسانی عقل کو اللہ تعالیٰ کے الہام کی ہدایت کے تابع کرے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تواس سے بھی صرف اسی قدر مراد تھی یہ مطلب ہر گز نہ تھا کہ آدم کو اس وقت پیدا کیا گیاتھا بلکہ ان کی بلوغت روحانی کے زمانہ میں انہیں الہام کا مرکز بنانے کا اعلان تھا اس کے بعد کی آیت بھی اسی امر پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا۔اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو خلیفہ بنانے کی خبر دے کر آدم پر الہام نازل کیا اور اسے تمام اسماء سکھائے۔