تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 426

آواز کو سنتا اور اس کی قدرتوں کو دیکھتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو الٰہی کلام کے سننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کی قدرتوں کے دیکھنے سے اعراض کرتے ہیں اندھے اور بہرے قرار دیا گیا ہے فرماتا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِيْرِ وَ السَّمِيْعِ١ؕ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ (ہود:۲۴،۲۵) یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ایمان کے مطابق اعمال بھی کئے اور اپنے رب کی طرف عجز کے ساتھ جھکے اور اس کے سلوک سے مطمئن ہو گئے وہی لوگ جنت کے مستحق ہیں وہ اس میں بستے چلے جائیں گے۔ان دونوں فریق (یعنی خدا تعالیٰ کا کلام سن کر اس پر ایمان لانے والوں اور اس کی قدرتوں کو دیکھنے والوں او رمنکروں) کی حالت اندھوں اور بہرو ںاور دیکھنے والوں اور سننے والوں کی حالت کی طرح ہے کیا یہ دونوں حالتیں برابر ہو سکتی ہیں پھر کیا یہ لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم حقیقی سمیع و بصیر انہی کو قرار دیتا ہے جو خدا تعالیٰ کی بات سُننے اور اس کی قدرتوں کے دیکھنے کے عادی ہیں۔پس اوپر کی آیت میں انسان کے سمیع و بصیر بنانے سے یہی مراد ہے کہ ایک وقت انسان پر ایسا آیا کہ نطفۂ امشاج سے جو خاصیتیں اس کے اندر باِلقوّہ رکھی گئی تھیں وہ باِلفعل بھی ظاہر ہو گئیں اور یہی وہ تغیرّ تھا جس کے اوّل مظہر اور اپنے زمانہ کے کامل مظہر آدم علیہ السلام تھے ورنہ یہ نہیں کہ ان سے پہلے کوئی بشر نہ تھا ان سے پہلے بھی بشر تھے کیونکہ وہ نطفۂ امشاج سے پیدا ہوتے تھے مگر آدم علیہ السلام کے ظہور سے پہلے وہ ابھی سمیع و بصیر نہ ہوئے تھے یعنی ان کی قوتیں ابھی اس حد تک ترقی پذیر نہ ہوئی تھیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے کلام کو سننے کے اہل ہو جاتے اور اس کی قدرتوں کو دیکھنے کے لائق ہو جاتے پس اس زمانہ میں ان پر الہام نازل نہ ہوتا تھا اور خدا تعالیٰ اپنی قدرتوں کو جو شریعت سے تعلق رکھتی ہیں ان کے لئے ظاہر نہ کرتا تھا لیکن جب انسان ترقی کرتے کرتے سمیع و بصیر کے مقام پر پہنچ گیا اور اس کا پہلا کامل وجود آدم علیہ السلام کی شکل میں ظاہر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے کلام کے لئے چن لیا اور اپنے الہام سے اسے مشرف کیا اور رُوحانی دور کی ابتدا ہو گئی اور انسان گویا اس جنت کا مستحق ہو گیا جس کے لئے اسے پیدا کیاگیا تھا اس سے پہلے بشر گو باِلقوّۃ انسانیت کی طاقتیں رکھتا تھا مگر باِلفعل ان قوتوں کو ظاہر کرنے کے قابل نہ تھا اور اس کی دماغی حالت دوسرے حیوانوں سے زیادہ ممتاز نہ تھی او راس وجہ سے اسے شریعت کا پابند نہ کیا گیا تھا۔اوپر کی آیات سے یہ امر ظاہر ہو چکا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک بشر کی پیدائش یکدم نہیں ہوئی اور آدم علیہ السلام سے اس کی ابتدا نہیں ہوئی بلکہ آدم علیہ السلام بشر کی اس حالت کے پہلے ظہور تھے جب سے وہ حقیقی