تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 428

اسماء کیاتھے ؟اس کی نسبت تو میں اگلی آیت میں روشنی ڈالوں گا۔اس وقت اس امر کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ یہ آیت بتاتی ہے کہ اس وقت آدم پہلے سے موجود تھے کیونکہ خلیفہ بنانے کا ذکر کرنے کے بعد یہ نہیں کہا گیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا بلکہ یہ کہا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم پر الہام نازل کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس وقت سے پہلے آدم پیدا ہو چکے تھے۔دوسری آیت جس میں آدم کا ذکر کیاگیا ہے یہ ہے وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ (الاعراف :۱۲) یعنی ہم نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو اعلیٰ سے اعلیٰ قویٰ بخشے پھر اعلیٰ قویٰ بخش کر فرشتوں سے کہا کہ آدم کی فرما نبرداری کرو۔میں نے صورت دینے کے معنے اس جگہ اعلیٰ قویٰ بخشنے کے کئے ہیں اور یہ لغت کے مطابق ہیں۔مفرداتِ راغب میں لکھا ہے صورت دو قسم کی ہوتی ہے۔اَحَدُھُمَا مَحْسُوْسٌ یُدْرِکُہُ الْخَاصَّۃُ وَالْعَامّۃُ بَلْ یُدْرِکُہُ الْاِنْسَانُ وَکَثِیْرٌ مِّنَ الْحَیَوَانِ کَصُوْرَۃِ الْاِنْسَانِ وَالْفَرَسِ وَالْحِمَارِ بِالْمُعَایَنَۃِ یعنی ایک صورت تو وہ ہوتی ہے جو حواس ظاہری سے معلوم ہوتی ہے اسے خاص و عام سب معلوم کر لیتے ہیں بلکہ انسانوں کے سوا بہت سے جانور بھی اسے دیکھتے ہیں جیسے انسان یا گھوڑے یا گدھے کی شکل وَالثَّانِیْ مَعْقُوْلٌ یُدْرِکُہُ الخَاصَّۃُ دُوْنَ الْعَامَّۃِ کَالصُّوْرَۃِ الَّتِی اخْتُصَّ الْاِنْسَانُ بِھَا مِنَ الْعَقْلِ وَالرَّوِیَّۃِ وَالْمَعَانِی الَّتِیْ خُصَّ بِھَا شَیْءٌ بِشَیْ ءٍ (المفردات لامام راغب زیر لفظ صُوَر)اور دوسری صورت وہ ہے جو صرف عقل کے ذریعہ سے دیکھی جا سکتی ہے اسے صرف خاص ہستیاں دیکھ سکتی ہیں۔جانور توالگ رہے عام انسان بھی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے جیسے کہ وہ صورت جس سے انسان کو ممتاز کیا گیا ہے یعنی اس کی عقل اور قوت فکریہ، اسی طرح وہ ممتاز کرنے والی طاقتیں جو مختلف اشیاء کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ عربی زبان میں صورت کا لفظ ظاہری شکل کے لئے بھی اور باطنی شکل یعنی اندرونی طاقتوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور انہی دوسرے معنوں کے مطابق میں نے ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ کے معنی یہ کئے ہیں کہ تم کو اعلیٰ سے اعلیٰ قویٰ بخشے۔اس کے بعد جوفرمایا کہ پھر ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کی فرمانبرداری کرو اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ محض پیدائشِ انسان کے معاً بعدہی ملائکہ کو آدم کی فرمانبرداری کا حکم نہ دیا گیا تھا بلکہ انسان کے پیدا ہونے کے بعد جب درجہ بدرجہ ترقی کر کے انسان نے اپنی روحانی قوتوں کو کامل کیا تھا۔اس وقت آدم کے سجدہ کا حکم دیا گیا تھا۔ایک اور امر بھی اس آیت سے ظاہر ہے کہ آدم کے سجدہ یا دوسرے لفظوں میںمطاع یا خلیفہ بننے سے پہلے متعدد انسان موجود تھے کیونکہ اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ آدم کو پیدا کرنے اور اُسے صورت رُوحانیہ دینے کے