تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 416

لیا کر اور رات کے وقت بھی اس کے حضور میں سجدہ کیا کر اور دیر تک رات کو اس کی تسبیح کیا کر۔اس آیت میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ رب کا نام لے کر تسبیح کر اور سجدہ میں تسبیح کرنے کا ذکر ہے جس میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہا جاتا ہے پس یہ بھی خالی تسبیح نہیں بلکہ تسبیح اور تحمید ملی ہوئی ہے۔کیونکہ رب تنزیہی صفت نہیں بلکہ ایجابی صفت ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ میرا اعلیٰ رب ہر نقص سے پاک ہے تو ہم نفی سے اس کی تعریف نہیں کرتے بلکہ اس کے اعلیٰ ہونے اور رب ہونے سے اس کی تعریف کرتے ہیں جو خالی تسبیح نہیں بلکہ تسبیح اور تحمیدکا مرکب ہے۔پانچویں چھٹی اور ساتویں آیات سورہ واقعہ اور حاقہ کی ہیں دو دفعہ سورہ واقعہ (ع ۲ و ع ۳ ) میں آتا ہے فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ (الواقعۃ :۷۵)اور ایک دفعہ حاقّہ (ع۲ ) میں آتا ہے فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ (الحاقۃ:۵۳) ان تینوں آیات میں بھی گوحمد کا لفظ نہیں مگر یہ مضمون ہے کہ اپنے رب عظیم کا نام لے کر تسبیح کر یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہو جو رکوع میں مسلمان کہا کرتے ہیں اور یہ مضمون بھی حمد پر مشتمل ہے نہ کہ خالی تسبیح پر۔آٹھویں آیت آل عمران ع ۴ کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِبْكَارِ (آل عمران:۴۲)یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا سے کہا کہ اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح شام اس کی تسبیح کر اس میں بھی رب کے لفظ کے ساتھ تسبیح کرنے کا حکم ہے جو خالی تسبیح نہیں بلکہ حمد اس کے ساتھ شامل ہے۔نویں آیت سورہ مریم کی ہے اس میں آتا ہے۔فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَيْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا(مریم:۱۲) یعنی حضرت زکریا مقام عبادت سے باہر آئے اور اپنے دوستوں سے اشارہ سے کہا کہ صبح شام تسبیح کرو اس آیت میں بیشک حمد شامل نہیں مگر یہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہیں حضرت زکریا کا ہے اور ہو سکتا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کے حکم میں تحمید شامل تھی اس کے دوبارہ ذکر میں یہاں بھی تخفیف کےلئے حمد کے ذکر کو چھوڑ دیا گیا ہو بہرحال مسلمانوں کو قرآن کریم میں پندرہ جگہ مخاطب کیا گیا ہے اور سب جگہ تسبیح کے ساتھ حمد الٰہی کو شامل کرنے کا حکم دیا ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خالی صفاتِ سلبیہّ پر زور نہ دیا کرو کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات سے فائدہ اُٹھانے کا موقع نہیں ملتا بلکہ اس کے ساتھ حمد کو شامل کیا کرو تاکہ اِیصالِ خیر کی صفات سے تم کو فائدہ پہنچے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمَانِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ(بخاری کتاب الایمان والنذور باب اذا قال : واللہ لا اتکلم الیوم۔۔۔۔) دو کلمے ایسے ہیں کہ بولنے کے لحاظ سے تو بہت ہلکے پھلکے ہیں مگر نتیجہ کے لحاظ سے بہت بھاری ہیں اور رحمن کو بہت ہی پیارے ہیں اور وہ یہ ہیں سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ