تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 417

الْعَظِیْمِ۔اس حدیث کا مفہوم بھی یہی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفات ایجابیہ کا ذکر کرتا ہے وہ ان صفات کو اپنے اندر پیدا کر کے ان کے مقابل کی الٰہی صفات کو اپنے پروارد کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے انعامات کا مستحق ہو جاتا ہے۔نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ کے فقرہ کے بیان کرنے سے امت محمدیہ کے لئے ایک عظیم الشان سبق خلاصہ یہ کہ ملائکہ کا یہ فقرہ اس جگہ دُہرا کر اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدیہ کو ایک عظیم الشان سبق دیا ہے کہ صفاتِ سلبیہّ پر اکتفا نہ کر وبلکہ صفاتِ ایجابیہّ کو ساتھ یاد کیا کرو تاکہ ان سے فائدہ اُٹھا سکو اور تا تمہارا وجود ملائکہ کے اس سوال کا جواب ہو کہ ہم تو تسبیح اور تحمید کرتے ہیں پھر انسانی نظام کے چلانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ تم بھی تسبیح اور تحمید کرنے والے وجودبن کر بنی نوع انسان کی پیدائش کی ضرورت کا عملی ثبوت بن جائوگے اور خدا تعالیٰ کی حکمت کی شہادت ہو جائو گے۔قرآن کریم کی دوسری آیات کی روشنی میں اس آیت کے بعض مطالب کا بیان قرآن کریم کی دوسری آیات کی روشنی میں آیت ھٰذا کے مضامین کی تشریح اب میں قرآن کریم کی دوسری آیات کی روشنی میں اس آیت کے بعض مضامین کو بیان کرتا ہوں۔اوّل میں آدم علیہ السلام کے ذکر کو لیتا ہوں۔آدم علیہ السلام انسانی نظام کی پہلی کڑی ہیں اور قرآن کریم کے بیان کے مطابق الہامِ الٰہی کا سلسلہ انسانوں میں اُن سے چلا ہے۔میں سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آدم علیہ السلام کے ذکر سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ بشر کی پیدائش آدم علیہ السلام کے ذریعہ سے چلی ہے یا یہ کہ خدا تعالیٰ نے یکدم ایک بشر یعنی آدم کو پیدا کر دیا اور پھر اس کی پسلی سے اس کے لئے بیوی بنا دی اور ان سے آگے انسانی نسل چلی۔اس خیال کی تصدیق قرآن کریم سے ہرگز نہیں ہوتی بلکہ یہ بیان بائبل اور دوسری کتب کا ہے اور اسے غلطی سے اسلام کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔بائبل میں آدم ؑ کی پیدائش کا واقعہ بائبل میں آدم کے واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔’’تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اور اپنی مانند بنائیں کہ وہ سمندر کی مچھلیوں پر اور آسمان کے پرندوں اور مویشیوں پر اور تمام زمین پر اور سب کیڑے مکوڑوں پر جو زمین پر رینگتے ہیں