تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 379
کا گول یا چپٹاہونا عقل کے خلاف ہے۔یہ محض استعارات ہیں اور اِن کے بغیر صرف یہ کہہ کر کہ اچھی خوشبو ہے، عمدہ ہے ہم کبھی اپنے مطلب کو واضح نہیں کر سکتے مگر جب ہم استعارہ استعمال کرتے ہیں تو مضمون کو نہایت قریب کر دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔غرض استعارہ اور تشبیہ ضروری امور میں سے ہیں اور صرف مبالغہ کا کام نہیں دیتے بلکہ حقیقت کو قریب کرنے کا کام دیتے ہیں اور کفار کا یہ اعتراض کہمَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا محض جہالت اور تعصب کا اظہار تھا۔مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا میںمَثَـلًا کا اعراب مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًامیں مَثَـلًا پر نصب اس لئے ہے کہ وہ بطور تمیز کے واقع ہوا ہے اور تمیز کا اصول یہ ہے کہ اسے اسم کی طرف مضاف کر کے معنے صحیح ہو سکیں چنانچہ اس آیت کے معنے یوں ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اس بات کے بیان کرنے سے کیا منشاء ہے؟ یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّیَہْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا اس میں اس قسم کے ناقص ذکر کی غرض کو بیان فرمایا اور بتایا کہ ایسے ذکر سے فائدہ کیوں نہیں۔مومن چونکہ رُوحانی آدمی ہیں انہوں نے روحانی لذتیں حاصل کی ہوئی ہیں اس لئے جب وہ یہ استعارے قرآن میں پڑھتے ہیں تو اُن کے قلوب کچھ نہ کچھ اندازہ ان نعمتو ںکا لگا لیتے ہیں کیونکہ انہوں نے ان دونوں نعمتوں کو الگ الگ چکھا ہوا ہوتا ہے۔نماز کی لذت ‘روزہ کی لذّت‘ صدقہ و خیرات کی لذّت بھی انہوں نے چکھی ہوئی ہوتی ہے اور پھلوں کی لذّت بھی چکھی ہوئی ہوتی ہے۔پس اِس لطیف ذوق کی وجہ سے جو صاحبِ کمال لوگوں میں ہوتا ہے وہ ان روحانی پھلوں اور ان جسمانی پھلوں کی مشابہت کو سمجھتے ہیں اور جب قرآن کریم میں استعارہ اور تشبیہ کے طور پر ان جسمانی نعمتوں کے الفاظ کا استعمال دیکھتے ہیں توان کے دل اس مناسبت کو جو ان دونوں میں ہے اپنے ذوق صحیح کی وجہ سے محسوس کر لیتے ہیں اور یہ امر ان کے ایمان کی زیادتی کا موجب ہوتا ہے لیکن کافر جن کی رُوحانی حِس مری ہوئی ہے اور وہ عبادات کی لذت سے آشنا ہی نہیں۔اور ان کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ نازل ہوتا ہے وہ انہوں نے کبھی چکھا ہی نہیں اس لئے ان کی مثال اس اندھے کی طرح ہوتی ہے جس کے سامنے رنگوں کا ذکر کیا جائے تو وہ کچھ سمجھ نہیں سکتا۔اور اس کے قلب کی کوئی تار خوبصورت نظارو ںکے ذکر سے پھڑکتی نہیں۔اور وہ بجائے فائدہ اُٹھانے کے اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں اور اپنے اندر کی گمراہی کو ظاہر کر دیتے ہیں۔جس طرح مثلاً کسی کی آنکھ بظاہر سلامت ہو مگر اُسے نظر کچھ نہ آتا ہو اور کسی مجلس میں لوگ کسی نظارے کی طرف اشارہ کریںاور وہ بول اُٹھے کہ ایسی کوئی چیز موجود نہیں تو اس کے اندھے پن کا راز افشاء ہو جائے گا اسی طرح فرماتا ہے کہ ایسے بیان سے ایک فائدہ مومنوں کے بارہ میں ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اندرونی ذوقوں کاپتہ چل جاتا